
ویتنام میں سمندر پار ڈرون کے ذریعے ڈاک کی ترسیل کا آغاز، لاجسٹکس شعبے میں نئی پیش رفت
ہو چی منہ سٹی،یورپ ٹوڈے: ویتنام نے بغیر پائلٹ فضائی گاڑی (UAV) کے ذریعے اپنی پہلی سمندر پار ڈاک ترسیل سروس کا آغاز کر دیا ہے، جو جدید لاجسٹکس ٹیکنالوجی کے استعمال اور ملک کی ابھرتی ہوئی "لو آلٹی ٹیوڈ اکانومی” کی ترقی کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
نئی فضائی ترسیلی روٹ ہو چی منہ سٹی کے کن جیو کمیون اور وونگ تاؤ وارڈ کو آپس میں ملاتی ہے۔ اس منصوبے کا افتتاح 12 فروری کو بلدیہ کے محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی، سی ٹی گروپ اور Vietnam Post کے باہمی تعاون سے کیا گیا۔
افتتاحی پرواز کے دوران سی ٹی یو اے وی (CT UAV) کی تیار کردہ ڈرون نے تقریباً 2 کلوگرام وزنی پارسل کو 12 کلومیٹر سے زائد فاصلے تک تقریباً 15 منٹ میں سمندر کے اوپر سے منتقل کیا۔ اندازوں کے مطابق یہ سفر زمینی راستے کے مقابلے میں چھ گنا اور آبی راستے کے مقابلے میں تین گنا زیادہ تیز ہے۔
حکام کے مطابق ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال سے کن جیو اور وونگ تاؤ کے درمیان مجموعی سفری وقت میں روایتی زمینی ٹرانسپورٹ کے مقابلے میں 80 سے 90 فیصد تک کمی ممکن ہے۔ مکمل آپریشنل ہونے کے بعد یہ روٹ روزانہ 3 ہزار سے 5 ہزار تک دو کلوگرام سے کم وزن کے پارسلز منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ علاوہ ازیں، ساحل سے دور کام کرنے والے بحری جہازوں کو بھی اس سروس سے فائدہ پہنچنے کی توقع ہے، جہاں روزانہ تقریباً 120 بڑے جہازوں کو دستاویزات اور پارسلز کی ترسیل درکار ہوتی ہے۔
ڈرونز کو جدید "سی ٹی نیکسس فلائٹ کنٹرول سسٹم” سے لیس کیا گیا ہے، جو ساحلی اور سمندری ماحول میں تیز ہواؤں کے باوجود مستحکم پرواز کو یقینی بناتا ہے۔ ان طیاروں کی اوسط رفتار 10 سے 15 میٹر فی سیکنڈ ہے، جو انہیں مختلف لاجسٹک ضروریات کے مطابق لچکدار انداز میں استعمال کے قابل بناتی ہے۔
فضائی تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے پرواز کے تمام تکنیکی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ ڈرون کی زیادہ سے زیادہ پرواز کی بلندی 200 میٹر مقرر کی گئی ہے، جب کہ 300 میٹر چوڑا فضائی کوریڈور اور ٹیک آف و لینڈنگ زون میں 500 میٹر آپریٹنگ رداس متعین کیا گیا ہے۔ ہر ڈرون میں آن بورڈ کیمرے اور ذہین خودکار نیویگیشن نظام نصب ہے، جس کے ذریعے ڈاک، ضروری اشیا، ادویات اور اہم دستاویزات کی ترسیل ممکن ہوگی۔
ہو چی منہ سٹی کے محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی کے نائب ڈائریکٹر فام ہونگ کوانگ ہیو کے مطابق سمندر پار پرواز طویل فاصلے اور پیچیدہ موسمی حالات کے باعث تکنیکی طور پر زیادہ چیلنجنگ تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پرواز نہ صرف تکنیکی پختگی کا مظہر ہے بلکہ حقیقی حالات میں کم بلندی والی فضائی نقل و حمل کے ماڈل کو منظم اور نافذ کرنے کی صلاحیت کو بھی ظاہر کرتی ہے۔
ہو چی منہ سٹی پوسٹ کے ڈائریکٹر نگوین نھو تھوآن نے کہا کہ Vietnam Post متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر تمام قانونی اور عملی تقاضے مکمل کرنے کے بعد بڑے پیمانے پر تجارتی سروس کا آغاز کرے گا۔ فی الحال یہ سروس عوامی سطح پر باقاعدہ فیس وصولی کے لیے کھولی نہیں گئی۔
حکام کے مطابق یہ اقدام صرف ڈاک کی ترسیل تک محدود نہیں رہے گا بلکہ مستقبل میں سمندری لاجسٹکس، بحری نگرانی، آف شور معائنہ اور ہنگامی طبی امداد جیسے شعبوں میں بھی معاون ثابت ہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ ویتنام میں ڈرون پر مبنی خدمات کے فروغ اور کم بلندی والی معیشت کو مستقبل کے ایک نئے ترقیاتی محرک کے طور پر متعارف کرانے کی بنیاد فراہم کرے گا۔