
ہوائی توانائی مراکش کے بجلی کے نظام کی محرک قوت بن گئی
رباط، یورپ ٹوڈے: مراکش کے بجلی کے نظام میں ہوائی توانائی ایک کلیدی محرک قوت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے، جس کے باعث قابلِ تجدید توانائی کی پیداوار ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی اور فوسل فیول پر انحصار میں بتدریج کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ بات نیشنل الیکٹرکٹی ریگولیٹری اتھارٹی (ANRE) کی تازہ ترین سالانہ رپورٹ میں سامنے آئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2024 کے اختتام تک مراکش کی ہوائی توانائی کی نصب شدہ صلاحیت 2,390 میگاواٹ تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 18.5 فیصد اضافہ ہے اور ملک کی مجموعی نصب شدہ بجلی صلاحیت کا 20 فیصد بنتی ہے۔
اس نمایاں اضافے کی بنیادی وجہ دو بڑے منصوبوں کی تکمیل ہے، جن میں ایساؤئیرا کے قریب جبل لحدید ونڈ فارم (270 میگاواٹ)، جو نیشنل الیکٹرکٹی اینڈ واٹر یوٹیلیٹی (ONEE) کے ساتھ آزاد بجلی پیدا کرنے والے (IPP) معاہدے کے تحت تیار کیا گیا، اور تطوان میں کُودیہ البیضاء ری پاورنگ منصوبہ (100 میگاواٹ)، جو مراکشی ایجنسی برائے پائیدار توانائی (MASEN) کے اشتراک سے مکمل کیا گیا، شامل ہیں۔
ہوائی توانائی سے ریکارڈ پیداوار
2024 کے دوران ہوائی توانائی سے بجلی کی پیداوار بڑھ کر 9,363 گیگاواٹ آور تک پہنچ گئی، جو 2023 کے مقابلے میں 43 فیصد اضافہ ہے۔ یہ قومی سطح پر بجلی کی مجموعی پیداوار کا 21 فیصد اور قابلِ تجدید ذرائع سے حاصل ہونے والی بجلی کا 80 فیصد بنتی ہے۔
اس پیداوار کا بڑا حصہ آزاد بجلی پیدا کرنے والوں (47 فیصد) اور لبرلائزڈ مارکیٹ میں نجی آپریٹرز (43 فیصد) سے حاصل ہوا، جبکہ ONEE، MASEN اور خود بجلی پیدا کرنے والوں کا حصہ نسبتاً کم رہا۔
قابلِ تجدید توانائی کی مجموعی صورتحال
ملک میں قابلِ تجدید توانائی کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت 5,439 میگاواٹ تک پہنچ گئی، جو بجلی کے مجموعی نظام کا 45 فیصد بنتی ہے۔ اس میں ہوائی توانائی سرفہرست رہی (44 فیصد)، اس کے بعد آبی توانائی (24 فیصد)، شمسی توانائی (17 فیصد) اور پمپڈ اسٹوریج سہولیات (15 فیصد) شامل ہیں۔
قابلِ تجدید ذرائع سے بجلی کی مجموعی پیداوار 11,666 گیگاواٹ آور رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 27 فیصد زیادہ ہے۔
شمسی اور پمپڈ اسٹوریج منصوبے
شمسی توانائی کی نصب شدہ صلاحیت بڑھ کر 928 میگاواٹ ہو گئی، تاہم ورزازات کے نور تھری (Nour III) پلانٹ کی عارضی عدم دستیابی کے باعث شمسی پیداوار میں 25 فیصد کمی واقع ہوئی اور یہ 1,617 گیگاواٹ آور رہی۔ شمسی پیداوار میں MASEN کا حصہ 86 فیصد، ONEE کا 13 فیصد اور خود پیداوار کا حصہ 0.2 فیصد رہا۔
اکتوبر 2024 میں کمیشن کیے گئے عبدالمومن پمپڈ اسٹوریج پاور اسٹیشن نے 350 میگاواٹ بجلی کا اضافہ کیا اور ابتدائی مہینوں میں 135 گیگاواٹ آور بجلی پیدا کی۔ اس منصوبے سے نظام میں لچک پیدا ہوئی، خصوصاً قابلِ تجدید توانائی کے انضمام میں مدد ملی، جبکہ پمپڈ اسٹوریج سے بجلی کی مجموعی پیداوار 124 فیصد اضافے کے ساتھ 365 گیگاواٹ آور تک پہنچ گئی۔
فوسل فیول پر انحصار میں کمی
قابلِ تجدید توانائی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے نتیجے میں فوسل فیول سے بجلی کی پیداوار میں بتدریج کمی دیکھی گئی۔ کوئلہ بدستور سب سے بڑا ذریعہ رہا (60 فیصد)، تاہم اس کی پیداوار میں 4 فیصد کمی آئی، جبکہ فرنس آئل اور ڈیزل سے بجلی کی پیداوار میں 9 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
قدرتی گیس سے بجلی کی پیداوار میں معمولی اضافہ ہوا، جو وقفے وقفے سے دستیاب قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع میں توازن برقرار رکھنے میں معاون ثابت ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق مراکش نے 2030 تک اپنے بجلی کے نظام میں قابلِ تجدید توانائی کا حصہ 52 فیصد سے زائد کرنے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔
2024 میں ملک میں بجلی کی قومی طلب 45.71 ٹیراواٹ آور تک پہنچ گئی، جو 4 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے، جبکہ اس طلب کا 95 فیصد سے زائد حصہ مقامی ذرائع سے پورا کیا گیا، جو توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے اور توانائی کی منتقلی کے عمل میں مراکش کی صلاحیت کا مظہر ہے۔