
عالمی بینک گروپ کی پاکستان کی معاشی اصلاحات میں معاونت قابلِ قدر ہے: وزیراعظم شہباز شریف
اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پیر کے روز عالمی بینک گروپ کی جانب سے پاکستان کی معاشی ترقی اور اصلاحات کے فروغ میں فراہم کی جانے والی قیمتی معاونت کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی بینک کی شراکت داری ملکی ترقی میں نہایت اہم رہی ہے۔
وزیراعظم سے عالمی بینک گروپ (ڈبلیو بی جی) کے صدر اجے بنگا نے وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی۔ اس موقع پر وزیراعظم نے عالمی بینک گروپ کے صدر کی حیثیت سے اجے بنگا کے پہلے سرکاری دورۂ پاکستان کا خیرمقدم کیا۔
وزیراعظم نے عالمی بینک گروپ کے ساتھ پاکستان کی دیرینہ شراکت داری اور ملکی ترقیاتی ترجیحات کی حمایت پر اظہارِ قدردانی کیا، بالخصوص 10 سالہ ورلڈ بینک گروپ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک (سی پی ایف) کے تحت تعاون کو سراہا۔ انہوں نے اجے بنگا کی قیادت میں عالمی بینک گروپ کو ایک مؤثر اور نتائج پر مبنی ترقیاتی شراکت دار میں ڈھالنے کی کوششوں کی بھی تعریف کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت پائیدار معاشی استحکام کے لیے ہمہ جہت اور جامع ساختی اصلاحات پر مبنی مقامی پروگرام کے تحت معاشی اصلاحات کے ایجنڈے پر بھرپور انداز میں عمل پیرا ہے۔ انہوں نے لچکدار بنیادی ڈھانچے، زرعی کاروبار، ڈیجیٹل ترقی، توانائی، انسانی سرمائے، مالیاتی اصلاحات اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے پیداواری نجی سرمایہ کاری میں اضافے کے حوالے سے عالمی بینک گروپ کی معاونت کو بھی سراہا۔
وزیراعظم شہباز شریف اور اجے بنگا نے سی پی ایف سے ہم آہنگ ترجیحات پر تیز رفتار عملدرآمد اور مؤثر نگرانی کی ضرورت پر زور دیا تاکہ بروقت اور وسیع پیمانے پر مثبت نتائج حاصل کیے جا سکیں۔ ان اقدامات سے ترقیاتی منصوبوں میں درپیش عملدرآمدی رکاوٹوں کے حل کے لیے وزیراعظم کے اقدامات کو تقویت ملے گی۔
وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت ایسی ساختی اصلاحات پر کاربند ہے جو روزگار پر مبنی ترقی کو ممکن بنائیں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید مضبوط کریں۔
اس موقع پر اجے بنگا نے وزیراعظم کی جانب سے پرتپاک استقبال اور مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے حکومتِ پاکستان کی جاری اصلاحاتی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے ’’ون ورلڈ بینک گروپ‘‘ کے نقطۂ نظر کے تحت تعاون کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے کے اہداف کے حصول کے لیے ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ مضبوط ہم آہنگی کے ساتھ ساتھ نجی وسائل کے بہتر استعمال کی بھی ضرورت ہے۔