ادبیات

اکادمی ادبیات پاکستان کے زیرِ اہتمام ‘سینئر اہلِ قلم سے مکالمہ’ پروگرام: بین الصوبائی ادبی ہم آہنگی اور تخلیقی تبادلے کو فروغ

اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: ۱۶ جنوری ۲۰۲۶ء:اکادمی ادبیات پاکستان کے زیرِ اہتمام اہلِ قلم کے دوسرے بین الصوبائی اقامتی منصوبے کے سلسلے میں “سینئر اہلِ قلم سے مکالمہ” کے عنوان سے ایک بامعنی اور فکری پروگرام منعقد ہوا۔ یہ نشست ۱۶ جنوری ۲۰۲۶ء کو دوپہر دوبجے اکادمی کے کمیٹی روم نمبر ۲ میں منعقد ہوئی جس میں ملک کے مختلف صوبوں سے آئے ہوئے بیس منتخب اہلِ قلم اور سینئر اہلِ قلم نے شرکت کی۔

اس نشست کا مقصد نوجوان اور ابھرتے ہوئے لکھاریوں کو سینئر اور کہنہ مشق اہلِ قلم کے تجربات، فکری بصیرت اور ادبی سفر سے روشناس کرانا تھا تاکہ بین الصوبائی سطح پر ادبی ہم آہنگی، مکالمے اور تخلیقی تبادلے کو فروغ دیا جا سکے۔

مکالمے میں بطور مہمانِ اہلِ قلم جناب محمد عاطف علیم، جناب راحت سرحدی، جناب اسرار ایوب، جناب فرخ یار، جناب عابد سیال، جناب شکیل جاذب،جناب اشفاق ناصر، جناب رشاد بخاری اور محترمہ محمودہ غازیہ نے شرکت کی۔ ان معزز شخصیات نے اپنے تخلیقی تجربات، ادبی رجحانات، عصرِ حاضر کے فکری مسائل اور ادب کے سماجی کردار پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔

سینئر اہلِ قلم نے شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ادب محض جمالیاتی اظہار نہیں بلکہ سماج کی تشکیل، تہذیبی شناخت اور انسانی اقدار کے تحفظ کا مؤثر وسیلہ بھی ہے۔ انہوں نے نوجوان لکھاریوں کو مطالعے کی وسعت، زبان پر دسترس، روایت اور جدت کے باہمی ربط اور دیانت دار تخلیقی عمل کی اہمیت پر قیمتی مشورے دیے۔ سوال و جواب کے سیشن میں مختلف صوبوں سے آئے اہلِ قلم نے بھرپور حصہ لیا جس سے نشست نہایت متحرک اور بامقصد بن گئی۔تخلیقی عمل میں در پیش مسائل،مزاحمت اور معتبر ادیبوں میں اپنی جگہ بنانا جیسے موضوعات کو زیر بحث لایا گیا۔

نشست کی نظامت کے فرائض محترمہ درِ شہوار توصیف نے خوش اسلوبی سے انجام دیے۔ ان کی سنجیدہ مگر رواں نظامت نے مکالمے کو مربوط رکھا اور تمام مہمانانِ اہلِ قلم کو اظہارِ خیال کا مناسب موقع فراہم کیا۔آخر میں شرکا نے اکادمی ادبیات پاکستان کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے اقامتی منصوبے اور مکالماتی نشستیں نہ صرف تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارتی ہیں بلکہ قومی سطح پر ادبی یگانگت اور فکری ہم آہنگی کو بھی فروغ دیتی ہیں۔ پروگرام کا اختتام ایک مثبت اور حوصلہ افزا فکری فضا میں ہوا۔

پاکستان Previous post پاکستان نے بھارت کے جھوٹے دعوے کو مسترد کر دیا کہ جموں و کشمیر اس کا "لازمی اور جدا نہ ہونے والا حصہ” ہے
بیلجیم Next post بیلجیم کا گرین لینڈ میں بین الاقوامی نگرانی مشن میں شمولیت کا اعلان