
وائٹ ہاؤس کورسپونڈنٹس ڈنر میں فائرنگ کا واقعہ؛ ملزم گرفتار، صدر ٹرمپ محفوظ
واشنگٹن، یورپ ٹوڈے: امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں ہفتہ کی شام وائٹ ہاؤس کورسپونڈنٹس ایسوسی ایشن کی جانب سے منعقدہ ایک استقبالیہ تقریب کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، جس کے بعد سیکیورٹی اداروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے صورتحال کو قابو میں لے لیا۔ حکام کے مطابق ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ امریکی انتظامیہ کا کوئی رکن زخمی نہیں ہوا۔
یہ واقع واشنگٹن ہلٹن ہوٹل میں پیش آیا، جہاں تقریب جاری تھی۔امریکی سیکرٹ سروس کے مطابق فائرنگ مرکزی سیکیورٹی چیکنگ ایریا کے قریب ہوئی۔ واقعے کی تحقیقات میٹروپولیٹن پولیس ڈیپارٹمنٹ سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے کر رہے ہیں۔
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ، جو پہلی مرتبہ وائٹ ہاؤس کورسپونڈنٹس ڈنر میں شریک تھے، کو دیگر مہمانوں کے ہمراہ بحفاظت مقام سے منتقل کر دیا گیا۔ صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں سیکیورٹی اہلکاروں کی فوری اور مؤثر کارروائی کو سراہا۔
انہوں نے کہا، “واشنگٹن میں ایک غیرمعمولی شام رہی۔ سیکرٹ سروس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شاندار کام کیا۔ انہوں نے تیزی اور بہادری سے کارروائی کی، اور حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔” بعد ازاں انہوں نے تصدیق کی کہ خاتون اول، نائب صدر اور کابینہ کے تمام ارکان محفوظ ہیں۔
سیکرٹ سروس کے مطابق واقعے میں براہِ راست متاثر ہونے والوں کی حالت کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ عینی شاہدین کی ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ فائرنگ کی آواز سننے کے بعد شرکاء نے خود کو محفوظ بنانے کے لیے پناہ لی وائٹ ہاؤس کورسپونڈنٹس ایسوسی ایشن نے اعلان کیا ہے کہ سالانہ ڈنر کو اس واقعے کے پیش نظر آئندہ 30 دنوں کے اندر دوبارہ منعقد کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ واشنگٹن ہلٹن ہوٹل ماضی میں بھی ایک اہم واقعے کا مرکز رہا ہے، جہاں 1981 میں سابق امریکی صدر رونالڈ ریگن پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا۔ اس حملے میں مسلح شخص جان ہنکلے جونیئر نے فائرنگ کی تھی، جس کے نتیجے میں ریگن سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔
حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے اور تحقیقات جاری ہیں، جبکہ مزید تفصیلات جلد جاری کی جائیں گی۔