حالتِ بے سروسامانی نہیں جاتی ہے
Read Time:23 Second

حالتِ بے سروسامانی نہیں جاتی ہے
اس بھرے دشت کی ویرانی نہیں جاتی ہے
شامِ افسوس نکلتے ہوئے پہلو سے ترے
کیا ہوا تھا کہ پشیمانی نہیں جاتی ہے
جن کو جلنا ہے سرِ راہِ محبت ہر دم
ان چراغوں کی نگہبانی نہیں جاتی ہے
کیسے منظر ہیں جو لپٹے ہیں مری آنکھوں سے
روبرو کیا ہے کہ حیرانی نہیں جاتی ہے
مسئلہ یہ ہے کہ خود سر ہوں بلا کا ناصر
کوئی بھی بات غلط مانی نہیں جاتی ہے