بالیدگی
سائیں۔۔۔!
آپ کا ہجر بارش کی طرح ہے
وہ بارش
جس کے برسنے سے
زمین سرسبز و شاداب ہو جاتی ہے
یوں ہی
میری ذات پر آپ کی جدائی برستی ہے
جومیرے دل کی بنجر دھرتی کوجل تھل کرتی ہے
اور میری روح پر
شادابی بن کر اُترتی ہے
سائیں۔۔۔! مجھےآپ کا ہجر
محرومی نہیں لگتا
بلکہ یہ ایک ایسا عمل ہے
جو مجھےزندہ رکھتا ہے۔۔۔!
About Post Author
یورپ ٹوڈے نیوزسروس
مزیدخبریں
عشق تیرا جو میری ذات کا دھارا بنتا
عشق تیرا جو میری ذات کا دھارا بنتامیں بھنور میں بھی اترتا تو کنارا بنتا درد بچے کی سی حیرت...
خرد مندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے
خرد مندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہےکہ میں اس فکر میں رہتا ہوں میری انتہا کیا ہے...
کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میں
کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میںکہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبین نیاز میں طرب آشنائے...
آہٹوں کے شہر سے واپس کوئی آتا نہ تھا
آہٹوں کے شہر سے واپس کوئی آتا نہ تھااس نگر میں ایک بھی تو راستہ ایسا نہ تھا اک شناسائی...
مجھے گلے سے لگا لو بہت اداس ہوں میں
مجھے گلے سے لگا لو بہت اداس ہوں میںغم جہاں سے چھڑا لو بہت اداس ہوں میں یہ انتظار کا...
یہ بے ضمیری اور تخت و تاج بھی وہی
یہ بے ضمیری اور تخت و تاج بھی وہیستم کی آگ میں جلے مزاج بھی وہی صدائے حق پکارتے چڑھے...
