
انڈونیشیا میں دیہی معیشت کے فروغ اور غربت میں کمی کے لیے مشترکہ اقدام کا آغاز
پورووریجو، یورپ ٹوڈے: انڈونیشی حکومت نے دیہی معیشت کو مضبوط بنانے اور غربت کے خاتمے کی رفتار تیز کرنے کے لیے فیملی ہوپ پروگرام (PKH) اور ریڈ اینڈ وائٹ ولیج کوآپریٹو پروگرام (KDMP) کے درمیان مشترکہ اقدام کا آغاز کر دیا ہے۔
اس تعاون کا مقصد پی کے ایچ سے مستفید ہونے والے خاندانوں کو دیہی کوآپریٹوز میں شمولیت کے ذریعے اضافی آمدن اور کاروباری مواقع فراہم کرنا ہے، تاکہ وہ معاشی طور پر خودمختار بن سکیں۔
ہفتہ کے روز وسطی جاوا کے شہر پورووریجو میں افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انڈونیشیا کے وزیرِ کوآپریٹوز فیری جولیانتونو نے کہا کہ دیہی کوآپریٹوز پی کے ایچ مستحقین کو بااختیار بنانے، معیارِ زندگی بہتر بنانے اور غربت و شدید غربت میں کمی لانے کے لیے مؤثر اور اسٹریٹجک ذریعہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ یہ شراکت حال ہی میں وزارتِ سماجی امور اور وزارتِ کوآپریٹوز کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت عمل میں آئی ہے، جس کا مقصد سماجی امداد سے فائدہ اٹھانے والے افراد کو دیہی کوآپریٹوز کا حصہ بننے کی رہنمائی فراہم کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کوآپریٹوز کو کمیونٹی کی بااختیاری کے مؤثر آلے کے طور پر استعمال کرے گی۔
فیری جولیانتونو کے مطابق، کے ڈی ایم پی کے اراکین کے طور پر مستحقین کو خاص طور پر کوآپریٹو کاروباری سرگرمیوں سے اضافی آمدن حاصل ہونے کی توقع ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت دیہی کوآپریٹوز کو محض سبسڈی اشیا کی تقسیم تک محدود نہیں رکھنا چاہتی بلکہ انہیں مقامی کسانوں اور مویشی پال حضرات کی پیداوار کے خریدار (آف ٹیکر) کے طور پر بھی فعال بنانا چاہتی ہے۔
انہوں نے پورووریجو کی مقامی انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ دیہی کوآپریٹوز کی سرگرمیوں کی مؤثر نگرانی کرے، خصوصاً جولائی 2025 میں قائم کیے گئے 80 ہزار سے زائد کوآپریٹوز میں سے 30 ہزار کی متوقع افتتاحی تقریب کی تیاریوں کے تناظر میں۔
اسی موقع پر وزیرِ سماجی امور سیف اللہ یوسف نے اظہارِ یقین کیا کہ کے ڈی ایم پی پروگرام غربت کے خاتمے کی کوششوں کو مزید تقویت دے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزارت اس بات کے لیے پُرعزم ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحقین، بالخصوص پیداواری عمر کے افراد، سماجی امدادی پروگراموں سے نکل کر خود کفالت کی راہ اختیار کریں، کیونکہ حکومتی امداد عارضی سہارا فراہم کرنے کے لیے ہوتی ہے۔
سیف اللہ یوسف نے کہا کہ پیداواری عمر کے خاندانوں کو چاہیے کہ وہ پُرامید رہیں اور دیہی کوآپریٹوز میں شامل ہو کر بااختیار بننے کی کوشش کریں۔
دریں اثنا، غربت کے خاتمے کے لیے قائم ایجنسی (BP Taskin) کے سربراہ بودیمن سودجاتمیکو نے کہا کہ غربت کے خاتمے کے لیے مختلف وزارتوں اور اداروں کے درمیان ہم آہنگی ناگزیر ہے، کیونکہ یہ قومی ترجیح کا معاملہ ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بی پی ٹاسکن حکومتی پروگراموں کے لیے ایک اینٹی انفلیشن حکمتِ عملی مرتب کر رہی ہے، جس کا مقصد مختلف اداروں کی کاوشوں کو ہم آہنگ بنا کر انتہائی غربت کا خاتمہ یقینی بنانا ہے۔