انڈونیشیا

انڈونیشیا کا بلو اکانومی میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کا اعلان، ماہی گیر معیشت کو مضبوط بنانے کا فیصلہ

Read Time:1 Minute, 32 Second

جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا کے صدر پرابوو سبیانتو نے کہا ہے کہ حکومت بڑھتی ہوئی عالمی سطح پر حیوانی پروٹین کی طلب کے پیش نظر سمندری معیشت یا ’’بلو اکانومی‘‘ میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرے گی۔

انڈونیشیائی سرکاری ادارے برائے کمیونیکیشن (باکوم) کے مطابق صدر نے کہا کہ انڈونیشیا بحیرہ جاتی وسائل سے مالا مال ملک ہے، لہٰذا ان وسائل کو عوام کی فلاح و بہبود کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کرنا ضروری ہے۔

جنوبی لائوٹے، گورونتالو میں واقع ریڈ اینڈ وائٹ فشرمینز ولیج (KNMP) کے دورے کے دوران صدر پرابوو سبیانتو نے کہا کہ دنیا بھر میں مچھلی سمیت حیوانی پروٹین کی شدید طلب ہے، اس لیے ان کی حکومت ماہی گیری اور بحری شعبے کی بڑے پیمانے پر ترقی کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ ’’ہمیں اس نعمت پر شکر ادا کرتے ہوئے اب ہی اس میں بڑی سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔‘‘

صدر نے کہا کہ بلو اکانومی میں سرمایہ کاری کا آغاز ماہی گیروں کے کردار کو مضبوط بنانے سے کیا جائے گا، جس کے لیے ریڈ اینڈ وائٹ فشرمینز ولیج پروگرام اہم کردار ادا کرے گا۔ اس منصوبے کا مقصد ماہی گیروں کو جدید سہولیات اور بنیادی ڈھانچے تک بہتر رسائی فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت رواں سال پورے انڈونیشیا میں 1,386 ماہی گیر دیہات فعال کرنے کا ہدف رکھتی ہے اور ہر سال مزید دیہات قائم کیے جائیں گے، تاکہ مجموعی طور پر 12 ہزار ماہی گیر بستیاں قائم کی جا سکیں۔

صدر نے مزید کہا کہ حکومت ماہی گیروں میں 1,582 کشتیاں بھی تقسیم کرے گی، جن کا انتظام ماہی گیر کوآپریٹیوز کے حوالے کیا جائے گا۔

پرابوو سبیانتو نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ انڈونیشیا کے سمندروں میں موجود وسائل کو غیر ملکی جہازوں کے بجائے مقامی ماہی گیر استعمال کریں، تاکہ قومی معیشت کو مضبوط بنایا جا سکے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
مارکۂ حق Previous post مارکۂ حق کی پہلی سالگرہ: مسلح افواج کا قوم کو خراجِ تحسین، قربانیوں اور کامیابیوں کو سراہا
پاکستان Next post معرکۂ حق کے بعد پاکستان عالمی سطح پر ایک مؤثر اور ابھرتا ہوا کردار بن کر سامنے آیا ہے: عاصم افتخار