انڈونیشیا

انڈونیشیا اور جائیکا کے درمیان اعلیٰ تعلیم و تحقیق میں تعاون کا فروغ، صنعتی شراکت داری پر بھی اتفاق

جکارتہ،یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا کی وزارتِ اعلیٰ تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی نے جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (جائیکا) کے ساتھ تعاون کو مزید مستحکم بنانے کا اعلان کیا ہے تاکہ تحقیق، تعلیمی شراکت داری اور صنعت کے ساتھ روابط کو فروغ دیا جا سکے۔

وزارت کی جانب سے ہفتہ کو جاری بیان کے مطابق اس پیش رفت پر تبادلۂ خیال وزیر برائن یولیارتو اور جائیکا کی چیف نمائندہ ساچیکو تاکیڈا کے درمیان ہونے والی حالیہ ملاقات میں کیا گیا۔

وزیر برائن یولیارتو نے جائیکا کے ساتھ طویل المدتی شراکت داری کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس تعاون کے نتیجے میں انڈونیشی جامعات میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری، تحقیقی مراکز کی ترقی اور جاپانی جامعات و کمپنیوں کے ساتھ روابط کے ذریعے استعداد کار میں اضافہ ممکن ہوا ہے۔

انہوں نے کہا، ’’ہم جائیکا کی جانب سے تجاویز اور ماہرین کی خدمات کے لیے تیار ہیں تاکہ اُن ترجیحی شعبوں کی نشاندہی کی جا سکے جنہیں انڈونیشیا کو فروغ دینا درکار ہے۔‘‘

وزیر نے مزید بتایا کہ وزارت اعلیٰ تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی کے بنیادی ڈھانچے کے لیے ایک قومی ماسٹر پلان تیار کر رہی ہے، جو ایک جامع پالیسی فریم ورک کا حصہ ہوگا، اور اس سلسلے میں جائیکا کی معاونت کا خیرمقدم کیا جائے گا۔

ساچیکو تاکیڈا نے اعلیٰ تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ صنعت اور جامعات کے درمیان روابط کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ انڈونیشیا کی پانچ جامعات میں سائنس، ٹیکنالوجی اور فنون کے پروگراموں کو بہتر بنانے کے لیے نئے منصوبے زیرِ تیاری ہیں۔

ان کا کہنا تھا، ’’ہم جاپانی کمپنیوں کو شامل کر کے صنعت اور جامعات کے درمیان اشتراک کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔‘‘

دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ انڈونیشیا کے اعلیٰ تعلیمی شعبے کو عالمی سطح پر مسابقتی اور ہمہ گیر بنانے کے لیے اصلاحات کی حمایت جاری رکھی جائے گی۔

حکام کے مطابق مسلسل تعاون سے انڈونیشیا کے تحقیق و اختراع کے نظام کو تقویت ملے گی، نجی شعبے کی شمولیت میں اضافہ ہوگا اور ملک بھر میں معیاری اعلیٰ تعلیم تک مساوی رسائی کو بہتر بنایا جا سکے گا۔

آسٹریلیا Previous post آسٹریلیا کی اپنے شہریوں کو ایران کا سفر مؤخر کرنے اور محفوظ صورت میں ملک چھوڑنے کی ہدایت
ترکمانستان Next post ترکمانستان اور او ایس سی ای کے درمیان شعبۂ ہجرت میں تعاون کے فروغ پر غور