
اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی صدارت: انڈونیشیا کا ’’سب کے لیے صدارت‘‘ کا اعلان
جکارتہ،یورپ ٹوڈے:انڈونیشیا نے اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی تاریخ میں پہلی مرتبہ صدارت سنبھالتے ہوئے ’’سب کے لیے صدارت‘‘ کا مشن پیش کیا ہے اور کثیرالجہتی نظام پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے تناظر میں کونسل کے کردار کو مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
انڈونیشیا کے وزیر خارجہ سوگیونو نے جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کے اکسٹھویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ صدارت صرف انڈونیشیا کے لیے نہیں بلکہ تمام ممالک کے لیے ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کثیرالجہتی نظام شدید دباؤ کا شکار ہے اور انسانی حقوق کونسل بھی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی سے متاثر ہو رہی ہے۔
انہوں نے کونسل کو خبردار کیا کہ وہ انسانی حقوق کے معاملات میں تقسیم یا جانبداری کا تاثر دینے سے گریز کرے، کیونکہ ایسا طرزِ عمل ادارے کی ساکھ اور عالمی اعتماد کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے کہ موجودہ کشیدگی کونسل کی ساکھ کو مزید کمزور نہ کرے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ کونسل کو اپنی دیانت داری اور بنیادی اصولوں پر قائم رہتے ہوئے بدلتے حالات کے مطابق خود کو ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ اس مقصد کے لیے غیر جانبداری، معروضیت اور شفافیت کو مزید مضبوط بنانا ضروری ہے۔
انہوں نے اختلافات کو مکالمے کے ذریعے کم کرنے اور تمام فریقین کا مؤقف سننے کے لیے انڈونیشیا کی آمادگی کا اعادہ کرتے ہوئے زور دیا کہ انسانی حقوق کی آفاقیت ہمیں مقصد میں متحد کرے، نہ کہ طریقۂ کار میں تقسیم۔
انسانی حقوق کونسل کا اکسٹھواں اجلاس 23 فروری سے 31 مارچ 2026 تک جاری رہے گا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ اس اجلاس کی صدارت انڈونیشیا کے جنیوا میں مستقل مندوب سیدھارتو آر سریوڈیپورو کر رہے ہیں، جو ایک تاریخی سنگِ میل ہے۔
انڈونیشیا کی صدارت کے دوران جن اہم موضوعات پر توجہ دی جائے گی ان میں خواتین کے جنسی اعضا کی مسخ شدگی کی روک تھام، امن کے فروغ کا کلچر، پائیدار ترقی کے لیے مالی وسائل کی فراہمی، معذور افراد کے حقوق اور بچوں کے حقوق شامل ہیں۔