
فلائی دبئی کی 2025 میں شاندار مالی کارکردگی، قبل از ٹیکس منافع 2.2 ارب درہم تک پہنچ گیا
دبئی،یورپ ٹوڈے: متحدہ عرب امارات کی معروف فضائی کمپنی فلائی دبئی نے 31 دسمبر 2025 کو اختتام پذیر ہونے والے مالی سال کے لیے مضبوط مالی نتائج کا اعلان کیا ہے۔ ایئرلائن نے قبل از ٹیکس 2.2 ارب درہم (591 ملین امریکی ڈالر) منافع حاصل کیا، جبکہ مجموعی آمدنی 13.6 ارب درہم (3.7 ارب امریکی ڈالر) تک پہنچ گئی، جو 2024 کے مقابلے میں 6 فیصد زیادہ ہے۔
کمپنی کا بعد از ٹیکس منافع 1.9 ارب درہم (531 ملین امریکی ڈالر) ریکارڈ کیا گیا، جو اس کے اسٹریٹجک نیٹ ورک کی توسیع، جدت میں مسلسل سرمایہ کاری، کسٹمر تجربے میں بہتری اور کم سہولت یافتہ مارکیٹس کی خدمت کے عزم کا مظہر ہے۔
فلائی دبئی کے چیئرمین، عزت مآب شیخ احمد بن سعید آل مکتوم نے مالی نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ نائب صدر، وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران عزت مآب شیخ محمد بن راشد آل مکتوم کی قیادت میں فلائی دبئی کی کامیابیاں دبئی کے وسیع تر معاشی وژن سے ہم آہنگ ہیں، جہاں ہوابازی دبئی کی ترقیاتی حکمت عملی کا بنیادی ستون ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل پانچویں سال مضبوط منافع فلائی دبئی کی منظم حکمت عملی اور آپریشنل استحکام کا واضح ثبوت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایئرلائن نے دبئی کی عالمی ہوابازی مرکز کی حیثیت سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے مسافروں کی مضبوط طلب کو برقرار رکھا اور ساتھ ہی آپریشنل کارکردگی پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے بیڑے، ٹیکنالوجی، مصنوعات اور افرادی قوت کی ترقی میں دانشمندانہ سرمایہ کاری جاری رکھی۔
شیخ احمد بن سعید نے کہا کہ فلائی دبئی نے ولی عہد دبئی اور چیئرمین ایگزیکٹو کونسل شیخ حمدان بن محمد بن راشد آل مکتوم کے ویژن کے تحت دبئی اکنامک ایجنڈا (D33) کے نفاذ میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ 100 سے زائد کم سہولت یافتہ مارکیٹس کو دبئی سے جوڑ کر کمپنی نے سیاحت، تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
مالی سال 2025 میں فلائی دبئی نے 4.0 ارب درہم (1.1 ارب امریکی ڈالر) کا مضبوط ای بی آئی ٹی ڈی اے برقرار رکھا۔ ایندھن کی لاگت مجموعی آپریٹنگ اخراجات کا 25 فیصد رہی، جبکہ سال کے اختتام پر نقد اور بینک بیلنس 5.6 ارب درہم (1.5 ارب امریکی ڈالر) رہا۔ بروقت پروازوں کی کارکردگی میں بھی 2024 کے مقابلے میں 6 فیصد بہتری آئی۔
ایئرلائن نے 2025 میں ریکارڈ 15.7 ملین مسافروں کو سفری سہولت فراہم کی، جبکہ بزنس کلاس کی طلب میں 19 فیصد اضافہ ہوا۔ مشرق وسطیٰ میں مسافروں کی تعداد میں 17 فیصد، افریقہ اور یورپ میں 12، 12 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
فلائی دبئی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر غیث الغیث نے کہا کہ 2025 کی مضبوط مالی کارکردگی کمپنی کے کاروباری ماڈل کی لچک اور ٹیم کی پیشہ ورانہ مہارت کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال، سپلائی چین کی رکاوٹوں اور بڑھتی ہوئی مرمت لاگت کے باوجود کمپنی نے اپنی آپریشنل کارکردگی اور تجارتی رفتار برقرار رکھی۔
ایئرلائن نے 2025 کے دوران 126,604 پروازیں آپریٹ کیں اور دسمبر میں عروج کے دنوں میں ایک دن میں 400 سے زائد روانگیاں ریکارڈ کیں۔ کمپنی نے 9 نئی منزلوں کا اضافہ کرتے ہوئے اپنے نیٹ ورک کو 58 ممالک کے 140 مقامات تک توسیع دی۔
فلائی دبئی نے 12 نئے بوئنگ 737 میکس 8 طیارے حاصل کیے، جس کے بعد بیڑے کی مجموعی تعداد 97 ہو گئی، جبکہ تین پرانے 737-800 طیارے واپس کر دیے گئے۔ کمپنی نے اپنے ریٹروفٹ پروگرام کو بھی مکمل کیا اور 25 طیاروں کو جدید سہولیات سے آراستہ کیا۔
دبئی ایئرشو کے دوران فلائی دبئی نے 150 ایئربس A321neo اور 75 بوئنگ 737 میکس طیاروں کے نئے آرڈرز کا اعلان کیا۔ مزید برآں، 2026 سے اپنے بیڑے میں مفت ہائی اسپیڈ اسٹارلنک ان فلائٹ انٹرنیٹ متعارف کرانے کا معاہدہ بھی کیا گیا۔
ایمریٹس اور فلائی دبئی کے اسٹریٹجک اشتراک کے تحت 2025 میں 2.5 ملین سے زائد مسافروں نے 103 ممالک کی 243 مشترکہ منزلوں تک ہموار سفری سہولت حاصل کی۔ کمپنی نے 11 نئے انٹرلائن معاہدے کیے اور شراکت داروں کی تعداد 42 تک پہنچا دی۔
کمپنی کی افرادی قوت میں 11 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد ملازمین کی مجموعی تعداد 6,763 ہو گئی۔ فلائی دبئی نے اپنے اب انیشیو پائلٹ ٹریننگ پروگرام اور ایئرکرافٹ مینٹیننس و انجینئرنگ اپرنٹس شپ پروگرام کا بھی آغاز کیا۔
2026 کے حوالے سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے غیث الغیث نے کہا کہ جاری چیلنجز کے باوجود سفری طلب مضبوط ہے اور کمپنی آئندہ سال 12 نئے طیارے حاصل کرنے کی توقع رکھتی ہے، جن میں 7 بوئنگ 737 میکس 9 اور 5 بوئنگ 737 میکس 8 شامل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ جدید اور ایندھن بچانے والے طیارے کمپنی کی ترقی اور پائیداری کے اہداف کی تکمیل میں معاون ثابت ہوں گے۔