
صاف پانی بنیادی انسانی حق، خواتین کی شمولیت یقینی بنائیں گے، وزیراعظم شہباز شریف
اسلام آباد، یورپ ٹوڈے:وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت صاف پانی تک رسائی کو بنیادی انسانی حق سمجھتی ہے اور آبی وسائل کے انتظام اور فیصلہ سازی کے عمل میں خواتین کی نمائندگی کو یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔
عالمی یومِ آب کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج یہ دن “پانی اور صنفی مساوات: جہاں پانی بہتا ہے، وہاں مساوات پروان چڑھتی ہے” کے عنوان کے تحت منایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ موضوع اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ پانی کا تحفظ صرف ایک تکنیکی معاملہ نہیں بلکہ سماجی انصاف اور صنفی مساوات سے بھی گہرا تعلق رکھتا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے اور قیامِ پاکستان کے وقت فی کس پانی کی دستیابی 5,260 مکعب میٹر سے کم ہو کر ایک ہزار مکعب میٹر سے بھی نیچے آ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث بارشوں کے غیر متوقع پیٹرن اور گلیشیئر نظام میں تبدیلیوں نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پانی کی کمی معاشرے کے تمام طبقات کی روزمرہ زندگی، روزگار اور سماجی ڈھانچے کو متاثر کرتی ہے جبکہ گھریلو سطح پر خواتین پانی کے انتظام کی زیادہ ذمہ داری اٹھاتی ہیں، جس کے باعث ان کا قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے اور تعلیم و معاشی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں، خصوصاً دیہی علاقوں میں۔
وزیراعظم نے کہا کہ قومی آبی پالیسی کے تحت حکومت مستقبل کے لیے آبی وسائل کے تحفظ کے لیے اہم اصلاحاتی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے 18 چھوٹے، درمیانے اور بڑے ڈیمز پر کام جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم جیسے بڑے منصوبے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے کے ساتھ ساتھ پینے کے پانی کی فراہمی میں مددگار ثابت ہوں گے، جبکہ نالونگ اور نئی گاج ڈیم زرعی آبپاشی کو بہتر بنائیں گے۔ اسی طرح گریٹر کراچی واٹر سپلائی اسکیم (کے-فور) کراچی میں پانی کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے اہم ہے۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ چنیوٹ ڈیم فیصل آباد کو پانی فراہم کرے گا جبکہ کچھی کینال اور چشمہ رائٹ بینک کینال کچھی اور ڈیرہ اسماعیل خان کے میدانوں کو آبپاشی اور پینے کا پانی فراہم کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ یہ تمام منصوبے مجموعی طور پر پانی کی دستیابی بڑھانے، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے اور پائیدار معاشی ترقی کے حصول میں اہم کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نہری نظام کی بہتری کے ذریعے پانی کے ضیاع میں 33 فیصد کمی اور پانی کی کارکردگی میں 30 فیصد اضافہ کرنا چاہتی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے ارسا ملک بھر میں ٹیلی میٹری سسٹم نصب کر رہا ہے، جو 2027 تک مکمل ہو جائے گا، اس سے دریاؤں کے بہاؤ کی بروقت نگرانی اور بین الصوبائی پانی کی تقسیم کے مسائل کے حل میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے اور کسی بھی قسم کی آبی جارحیت کی سخت مذمت کرتا ہے۔
وزیراعظم نے عالمی یومِ آب کے موقع پر تمام متعلقہ اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، سول سوسائٹی اور عوام سے اپیل کی کہ پانی کو ایک قیمتی نعمت سمجھتے ہوئے اس کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور حکومت کی جانب سے جامع، پائیدار اور صنفی حساس آبی وسائل کے انتظام کو فروغ دیا جائے گا۔