
توانائی کے تحفظ کے لیے ویتنام کی سفارتی کوششیں تیز، مشرقِ وسطیٰ کشیدگی پر گہری نظر
ہنوئی، یورپ ٹوڈے: ویتنام نے عالمی غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ وزارتِ خارجہ کی ترجمان فام تھو ہانگ نے جمعرات کے روز معمول کی پریس بریفنگ میں یہ بات کہی۔
صحافیوں کے سوالات کے جواب میں ترجمان نے بتایا کہ وزارتِ خارجہ سمیت متعلقہ وزارتیں اور ادارے، نیز بیرونِ ملک ویتنام کے سفارتی مشنز، اپنی ذمہ داریوں سے پوری طرح آگاہ ہیں اور پولیٹ بیورو، سیکرٹریٹ اور ریاستی و حکومتی قیادت کی ہدایات پر عمل درآمد کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے ویتنام پر ممکنہ اثرات کو کم سے کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزارتِ خارجہ، وزارتِ دفاع، وزارتِ پبلک سکیورٹی اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے، باقاعدگی سے تجزیے اور پیش گوئیاں کی جا رہی ہیں، اور بروقت ردعمل کے لیے حکمتِ عملی تیار کی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
ترجمان کے مطابق متاثرہ علاقوں میں تعینات ویتنامی سفارتی مشنز اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں، مسلسل صورتحال سے آگاہی فراہم کر رہے ہیں اور بالخصوص شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے اقدامات کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزارتِ خارجہ بین الاقوامی صورتحال اور دیگر ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیوں کا بھی بغور جائزہ لے رہی ہے تاکہ حکومت کو معاشی اور توانائی کے شعبوں میں مؤثر فیصلوں کے لیے مشورے فراہم کیے جا سکیں۔ اس ضمن میں وزارتِ خزانہ، وزارتِ صنعت و تجارت اور دیگر اداروں کے ساتھ قریبی رابطہ رکھا جا رہا ہے جبکہ شراکت دار ممالک کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
فام تھو ہانگ نے بتایا کہ ویتنام مختلف سطحوں پر توانائی سفارت کاری کو فروغ دے رہا ہے، جس میں اعلیٰ سطحی روابط بھی شامل ہیں۔ بیرونِ ملک ویتنامی مشنز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ میزبان ممالک کی حکومتوں، مقامی کاروباری اداروں اور بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ فعال تعاون کو یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ بھی وزارتِ خارجہ اور بیرونِ ملک مشنز متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر ان کوششوں کو جاری رکھیں گے۔
سمندری سلامتی کے حوالے سے ویتنام کے مؤقف پر روشنی ڈالتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ویتنام سمندر میں آزادیِ نقل و حرکت، سلامتی اور تحفظ کو نہایت اہمیت دیتا ہے اور امن، استحکام، تعاون اور ترقی کے لیے بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو ناگزیر سمجھتا ہے۔