پنجاب

لاہور: پنجاب اسمبلی نے چائلڈ میرج ریسٹرینٹ بل 2026 منظور کر لیا، کم عمری کی شادیوں کے خلاف اہم قانون سازی

Read Time:2 Minute, 10 Second

لاہور، یورپ ٹوڈے: پنجاب اسمبلی نے پیر کے روز چائلڈ میرج ریسٹرینٹ بل 2026 کثرتِ رائے سے منظور کر لیا، جس سے قبل ایوان میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان طویل اور گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی۔

اجلاس کی صدارت اسپیکر ملک محمد احمد خان نے کی، جبکہ اجلاس 53 منٹ تاخیر سے شروع ہوا۔ کارروائی کے دوران گورننس، زمینوں کی الاٹمنٹ اور عوامی شکایات سمیت مختلف امور پر شدید جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔

صوبائی وزیر برائے معدنیات شیر علی گورچانی نے الزام عائد کیا کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے دورِ حکومت میں قواعد میں ترامیم کے ذریعے بڑے پیمانے پر گلابی نمک کی زمینیں من پسند افراد میں تقسیم کی گئیں، جن کا رقبہ تقریباً ایک لاکھ ایکڑ بتایا گیا۔ اس بیان پر اپوزیشن ارکان نے شدید ردِعمل کا اظہار کیا۔

دوسری جانب اپوزیشن رکن اقبال خٹک نے اپنے حلقے میں قائم چیک پوسٹوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی کے نام پر شہریوں کو بلاجواز ہراساں کیا جا رہا ہے۔

تاہم اجلاس کا مرکزی نکتہ چائلڈ میرج ریسٹرینٹ بل 2026 رہا، جس پر تفصیلی بحث ہوئی۔ صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے بل کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا کہ کم عمری کی شادیاں لڑکیوں کی صحت، تعلیم اور مجموعی نشوونما پر منفی اثرات ڈالتی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ بچیوں کو تعلیم مکمل کرنے کا موقع دیا جائے اور انہیں قبل از وقت شادی پر مجبور نہ کیا جائے۔

انہوں نے اس بات پر بھی اعتراض اٹھایا کہ ارکان کو بل کی کاپیاں بروقت فراہم نہیں کی گئیں، جس پر اسپیکر نے فوری طور پر کاپیاں تقسیم کرنے کی ہدایت جاری کی۔

عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ سابقہ قانون کے تحت شادی کی عمر 16 سال تھی، جسے نئے قانون کے تحت بڑھا کر 18 سال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ شادی کی رجسٹریشن کے لیے شناختی کارڈ یا پیدائش کے سرٹیفکیٹ جیسے دستاویزات لازمی قرار دیے جائیں۔

بحث اس وقت مزید شدت اختیار کر گئی جب حکومتی رکن ذوالفقار علی شاہ نے تجویز دی کہ 18 سال سے کم عمر افراد کو عدالت کی اجازت سے شادی کی اجازت دی جانی چاہیے۔ ان کے اس مؤقف کی عظمیٰ بخاری نے سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ کم عمر افراد ذہنی اور جسمانی طور پر شادی کے لیے تیار نہیں ہوتے اور انہیں ایسے معاملات سے تحفظ فراہم کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ معاشرتی اور ثقافتی دباؤ کے باعث کم عمر لڑکیوں کو اکثر زبردستی شادی پر مجبور کیا جاتا ہے، جس کے تدارک کے لیے سخت قانونی اقدامات ناگزیر ہیں۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
چارلس Previous post شاہ چارلس اور ملکہ کمیلا وائٹ ہاؤس پہنچ گئے، صدر ٹرمپ کا پرتپاک استقبال
فورم Next post ورلڈ اربن فورم 13 سے قبل میڈیا بریفنگ، پائیدار شہری ترقی اور عالمی مکالمے پر زور