افغانستان

افغانستان پر انحصار ختم، پاکستان کا ایران کے ذریعے وسطی ایشیا تک نیا تجارتی راستہ فعال

Read Time:1 Minute, 23 Second

اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: پاکستان نے ایران کے راستے وسطی ایشیا تک ایک نیا تجارتی راہداری نظام فعال کر دیا ہے، جس سے افغانستان پر انحصار میں نمایاں کمی آئے گی۔ اس پیشرفت کے تحت کراچی سے تاشقند کے لیے گوشت کی پہلی کھیپ روانہ کر دی گئی ہے، جس سے فاصلے اور لاجسٹکس اخراجات میں کمی کی توقع ہے۔

تفصیلات کے مطابق National Logistics Corporation (این ایل سی) نے گبد بارڈر ٹرمینل کو بین الاقوامی سڑکوں کے ذریعے ترسیلی نظام (ٹی آئی آر) کے تحت فعال کر دیا ہے، جس کے ذریعے ایران کے راستے وسطی ایشیائی منڈیوں تک رسائی ممکن ہو گئی ہے۔ یہ نیا راستہ روایتی افغانستان روٹ کے مقابلے میں مختصر، محفوظ اور جدید قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ سنگِ میل کراچی سے بھیجے گئے گوشت کے کنٹینرز کی ترجیحی ہینڈلنگ اور کسٹم کلیئرنس کے بعد حاصل ہوا، جس کے بعد کھیپ کو ٹی آئی آر فریم ورک کے تحت ایران کے راستے ازبکستان روانہ کیا گیا۔

این ایل سی نے چین، ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں تک متعدد تجارتی راہداریوں کو فعال کیا ہے، جبکہ پاک ایران تجارت کو باضابطہ بنانے کے لیے مارچ 2024 میں گبد بارڈر ٹرمینل تعمیر کیا گیا تھا۔

معاشی ماہرین کے مطابق اس اسٹریٹجک پیشرفت سے پاکستان کی برآمدات میں اضافہ ہوگا، خاص طور پر وسطی ایشیا تک رسائی ایران کے ذریعے مزید آسان ہو جائے گی۔ نئے روٹ کے ذریعے فاصلہ کم، لاگت میں کمی اور تجارت میں بہتری آئے گی، جبکہ افغانستان پر انحصار بھی ختم ہو جائے گا۔ یہ اقدام پاکستان کو ایک علاقائی کنیکٹوٹی حب کے طور پر ابھارے گا اور وسطی ایشیائی منڈیوں تک براہِ راست رسائی فراہم کرے گا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
کریملن Previous post کریملن کا پاکستان سے اظہارِ تشکر، مذاکرات کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے پر اعتراف