ایران

امریکا۔ایران مذاکرات کے دوسرے دور کی کوئی تاریخ طے نہیں، قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے: دفترِ خارجہ

Read Time:2 Minute, 30 Second

اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: دفترِ خارجہ دفتر خارجہ پاکستان نے جمعرات کے روز واضح کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے تاحال کوئی تاریخ طے نہیں کی گئی، اور اگر مذاکرات ہوئے تو اس کی تاریخ اور وقت کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔

ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفترِ خارجہ طاہر اندرابی نے ’اسلام آباد مذاکرات‘ کے اگلے مرحلے سے متعلق قیاس آرائیوں سے گریز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا غیر مصدقہ خبروں کی اشاعت سے اجتناب کرے۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان کو امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی اور جنگ بندی کی کوششوں میں “تعمیری سفارتی کردار” پر عالمی سطح پر سراہا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد نے واشنگٹن اور تہران کے ساتھ مسلسل رابطوں کے ذریعے مکالمے کی حوصلہ افزائی، پیغامات کے تبادلے میں سہولت اور بامعنی مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حکمتِ عملی علاقائی استحکام اور عالمی امن کے لیے مستقل عزم اور اصولی، مکالمہ پر مبنی سفارت کاری کی عکاسی کرتی ہے، جبکہ پاکستانی میڈیا نے بھی ذمہ دارانہ کردار ادا کیا۔

ترجمان کے مطابق 11 اپریل کو امریکا اور ایران کے وفود دو ہفتہ جنگ بندی کے بعد حتمی مذاکرات کے لیے پاکستان پہنچے تھے، تاہم تقریباً 21 گھنٹے طویل مذاکرات کے باوجود دونوں فریق کسی حتمی معاہدے تک نہ پہنچ سکے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں، نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور چیف آف ڈیفنس فورسز و آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی فعال سفارتی کوششوں کے ذریعے متعلقہ فریقین سے رابطے برقرار رکھے گئے۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اس وقت ایران میں جاری سفارتی کوششوں کا حصہ ہیں، جبکہ وزیرِ داخلہ محسن نقوی بھی وفد میں شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم نے مختلف عالمی رہنماؤں، جن میں جرمنی، اٹلی، برطانیہ، جاپان اور کینیڈا کے رہنما شامل ہیں، سے رابطے کیے، جنہوں نے پاکستان کی امن کوششوں کی حمایت کا اظہار کیا۔ جرمن چانسلر نے پاکستان کے کردار کی بھرپور تائید کی، جبکہ دیگر ممالک نے بھی مذاکرات میں سہولت کاری کو سراہا۔

دفترِ خارجہ کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات انتہائی تفصیلی اور طویل تھے، جن میں پاکستانی حکام نے متعدد اہم اور تعمیری نشستوں میں ثالثی کا کردار ادا کیا۔ ترجمان نے زور دیا کہ فریقین کے لیے جنگ بندی پر عمل درآمد جاری رکھنا ناگزیر ہے۔

بریفنگ میں پاکستان کی وسیع سفارتی سرگرمیوں، سعودی عرب اور قطر کے ساتھ روابط اور مختلف علاقائی فورمز میں شرکت کا بھی ذکر کیا گیا، جن کا مقصد مشرقِ وسطیٰ میں استحکام کو فروغ دینا اور تنازعات کا پرامن حل تلاش کرنا ہے۔

متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات سے متعلق قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ یو اے ای پاکستان کا دیرینہ برادر اور دوست ملک ہے اور مالی معاملات کا کسی سیاسی اختلاف سے کوئی تعلق نہیں۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
دیہات Previous post وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی 7,500 بستیوں کو ماڈل دیہات میں تبدیل کرنے کے منصوبے کی منظوری
دوحہ Next post وزیرِ اعظم شہباز شریف سرکاری دورے پر دوحہ پہنچ گئے، قطری قیادت سے اہم مذاکرات متوقع