
آبنائے ہرمز کی بحالی پر انڈونیشیا کا خیرمقدم، عالمی توانائی استحکام کی امید
جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا کی حکومت نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی تجارتی جہازرانی کے لیے دوبارہ کھولنے کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں کمی کی مثبت علامت قرار دیا ہے۔
حکام کے مطابق یہ اقدام عالمی توانائی کی ترسیل کے استحکام اور بین الاقوامی تجارت کی بحالی کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ وزارتِ توانائی و معدنی وسائل (ESDM) کی ترجمان دوی انگیا نے جمعہ کو جاری بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کی بحالی عالمی توانائی سپلائی کے استحکام کے لیے ایک مثبت قدم ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس فیصلے سے توانائی کی ترسیل کے ان راستوں کو یقینی بنایا گیا ہے جو حالیہ جغرافیائی سیاسی حالات کے باعث متاثر ہوئے تھے۔ انڈونیشیا نے ممکنہ عالمی سپلائی تعطل کے پیش نظر پہلے ہی قومی ذخائر کو مضبوط بنانے اور توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانے جیسے اقدامات کیے تھے۔
ترجمان کے مطابق حکومت نے حالیہ غیر یقینی صورتحال کے دوران قومی توانائی سلامتی کو برقرار رکھا، جبکہ آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے سے عالمی سپلائی چین پر دباؤ میں کمی آئی ہے اور عالمی تیل کی قیمتوں میں بھی کمی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز سے تمام تجارتی جہازوں کی آمد و رفت مکمل طور پر بحال کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لبنان میں جنگ بندی کے تناظر میں اس اہم گزرگاہ کو مکمل طور پر کھول دیا گیا ہے۔
عالمی منڈیوں نے اس پیش رفت کا مثبت ردعمل دیا ہے، جہاں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی، جو سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات میں کمی کو ظاہر کرتی ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل کا ایک کلیدی راستہ ہے، جو تیل اور گیس کی عالمی سپلائی چین کی روانی کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اس علاقے میں پھنسے ہوئے پرٹامینا کے دو جہازوں کے محفوظ گزر کو یقینی بنانے کے لیے حکام مربوط کوششیں کر رہے ہیں۔ دوی انگیا نے تصدیق کی کہ انڈونیشیائی جہازوں کی آمد و رفت کے لیے مذاکرات جاری ہیں اور اس حوالے سے مثبت اشارے موصول ہوئے ہیں۔
حکومت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ عالمی حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ ملکی توانائی سپلائی اور قیمتوں کے استحکام کو یقینی بنایا جا سکے، جبکہ امید ظاہر کی گئی کہ اس اہم بحری راستے کی بحالی کے بعد جہازرانی بتدریج معمول پر آ جائے گی۔