انڈونیشیا

انڈونیشیا میں جدید ریٹیل پر پابندی کی تجویز، دیہی معیشت کے فروغ کے لیے نیا منصوبہ سامنے آگیا

Read Time:1 Minute, 47 Second

ماتارام، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا کے وزیر برائے دیہی امور و پسماندہ علاقوں کی ترقی یاندری سوسانتو نے جدید ریٹیل کاروبار کے لائسنسز پر عارضی پابندی (مورٹوریم) کی تجویز پیش کی ہے تاکہ اقتصادی ترقی کو دیہی علاقوں کی جانب منتقل کیا جا سکے اور مقامی معیشت میں بڑے سرمایہ کاروں کے غلبے کو کم کیا جا سکے۔

جمعرات کو صوبہ مغربی نوسا تنگارا کے شہر ماتارام میں ایک منصوبہ بندی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یاندری سوسانتو نے کہا کہ جدید ریٹیل سیکٹر میں منافع کا سو فیصد حصہ سرمایہ کاروں اور کاروباری مالکان کو جاتا ہے، جس سے مقامی آبادی کو خاطر خواہ فائدہ نہیں پہنچتا۔

انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت جدید ریٹیل نظام کی جگہ “ریڈ اینڈ وائٹ ولیج کوآپریٹوز” قائم کیے جائیں گے، جو بچت و قرضہ، کریانہ، لاجسٹکس، فارمیسی اور کلینکس سمیت مختلف خدمات فراہم کریں گے۔

وزیر نے کہا کہ مجوزہ منصوبے کے مطابق کوآپریٹوز کے کم از کم 20 فیصد منافع کو دیہی آمدن کا حصہ بنایا جائے گا، جبکہ باقی 80 فیصد براہِ راست مقامی کمیونٹی کو مختلف معاشی فوائد کی صورت میں واپس دیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب منافع مکمل طور پر گاؤں کے اندر ہی گردش کرے گا تو یہ انتہائی غربت کے خاتمے کے لیے ایک مؤثر حکمت عملی ثابت ہوگی، کیونکہ اس سے سرمایہ مقامی سطح پر ہی برقرار رہے گا۔

یہ تجویز بڑے ریٹیل اداروں کی تیز رفتار توسیع کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔ سال 2025 میں الفامارٹ اور انڈوماریٹ کے آؤٹ لیٹس کی تعداد ملک بھر میں 40 ہزار سے تجاوز کر گئی، جو دیہی علاقوں تک بھی وسیع پیمانے پر پھیل چکے ہیں۔

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق اس وقت تقریباً 34 ہزار “ریڈ اینڈ وائٹ ولیج کوآپریٹوز” ترقی کے مراحل میں ہیں، جن میں سے تقریباً 5,500 مکمل ہو چکے ہیں اور آپریشن کے لیے تیار ہیں۔

یاندری سوسانتو نے واضح کیا کہ ان کوآپریٹوز کے تمام اثاثے، بشمول عمارتیں، گودام اور گاڑیاں، مرکزی حکومت کے بجائے متعلقہ دیہات کی ملکیت ہوں گے، جن میں لاجسٹکس کے لیے استعمال ہونے والے ٹرک، پک اپ اور تین پہیوں والی گاڑیاں بھی شامل ہیں۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
دوحہ Previous post وزیرِ اعظم شہباز شریف سرکاری دورے پر دوحہ پہنچ گئے، قطری قیادت سے اہم مذاکرات متوقع
پاکستان Next post پاکستان اور تاجکستان کے درمیان اقوامِ متحدہ کے فورم پر تعاون کے فروغ پر زور