سعودی

سعودی سفیر کا پیغامِ اسلام کانفرنس سے خطاب، امتِ مسلمہ کے اتحاد، اعتدال اور امن پر زور

Read Time:3 Minute, 15 Second

اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: اسلام آباد میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی نے بدھ کے روز جناح کنونشن سینٹر میں منعقدہ چھٹی بین الاقوامی پیغامِ اسلام کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امتِ مسلمہ کو درپیش چیلنجز کے پیش نظر اتحاد، اعتدال اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

سفیر نے اپنے خطاب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک اور نبی کریم ﷺ پر درود و سلام سے کیا اور اس بابرکت اجتماع میں شرکت کو اپنے لیے اعزاز قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کانفرنس اسلام کی حقیقی تعلیمات یعنی رحم، اعتدال، بقائے باہمی، اتحاد اور امن کی عکاسی کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں مسلم دنیا کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، جس کے پیش نظر تقسیم سے اجتناب اور ایک متوازن و معتدل اسلامی بیانیے کے فروغ کی اشد ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی پالیسی خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد و وزیر اعظم محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی قیادت میں اعتدال کے فروغ، انتہاپسندی کے خاتمے اور عالمی سطح پر مکالمے کے فروغ پر مبنی ہے۔

سعودی سفیر نے کہا کہ یہ کردار سعودی عرب کی اسلامی ذمہ داری کا حصہ ہے کیونکہ وہ حرمین شریفین کا متولی ہے، جو دنیا بھر کے مسلمانوں کا قبلہ ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان امن کے قیام، انسداد دہشت گردی اور خطے کے استحکام کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

عالمی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسئلہ فلسطین سعودی عرب کی ترجیحات میں سرفہرست ہے اور مسلم دنیا کو درپیش دیگر مسائل کے حل کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سے عقیدت امتِ مسلمہ کو جوڑنے کا مضبوط ترین رشتہ ہے اور حرمین شریفین کی خدمت پوری امت کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

انہوں نے حرمین شریفین کی خدمت اور لاکھوں زائرین کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے سعودی عرب کی کاوشوں کو اجاگر کیا۔ علاقائی امور پر بات کرتے ہوئے انہوں نے ہر قسم کی جارحیت کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل سے منسوب حملوں کی مذمت کی جاتی ہے، جبکہ ایران کی جانب سے سعودی عرب، خلیجی ممالک، اردن، ترکیہ اور آذربائیجان پر حملوں کو بھی ناقابل قبول قرار دیا۔

انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کا احترام کریں، کشیدگی سے گریز کریں اور تنازعات کو بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے حل کریں۔ انہوں نے ایران سے ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے اور اشتعال انگیزی سے باز رہنے کا مطالبہ بھی کیا۔

علماء و مشائخ کے کردار پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ انبیاء کے وارث اور امت کے رہنما ہیں، اس لیے ان پر اتحاد کو فروغ دینے اور ریاستی اداروں کے ساتھ مل کر استحکام کو یقینی بنانے کی تاریخی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے خلیفہ سوم حضرت عثمان بن عفانؓ کی شہادت کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ داخلی اختلافات قوموں کو کمزور کرتے ہیں۔

سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات کو انہوں نے گہری اسٹریٹجک برادرانہ شراکت داری قرار دیا، جو مشترکہ عقیدے، اقدار اور مفادات پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ مشترکہ دفاعی معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی عکاسی کرتا ہے۔

اختتام پر سفیر نے کانفرنس کے منتظمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پاکستان، سعودی عرب اور پوری امتِ مسلمہ کے لیے امن، استحکام اور خوشحالی کی دعا کی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سعودی عرب ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہے گا۔

انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر “پاک-سعودیہ برادرانہ تعلقات زندہ باد، پاکستان زندہ باد” کا نعرہ بھی لگایا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
پنجاب Previous post پنجاب ترقی کے سنہری دور میں داخل ہو چکا ہے، وزیراعلیٰ مریم نواز شریف
شہباز شریف Next post آبنائے ہرمز میں “پروجیکٹ فریڈم” کی معطلی: شہباز شریف کا ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدام کا خیرمقدم