صدر مملکت

صدر مملکت کا علما سے اتحاد، اعتدال اور اسلام کے حقیقی پیغام کے فروغ میں فعال کردار ادا کرنے پر زور

Read Time:3 Minute, 18 Second

اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: صدر مملکت آصف علی زرداری نے بدھ کے روز مسلم دنیا کے علما پر زور دیا ہے کہ وہ اتحاد کے فروغ، انتہاپسندی کے خاتمے اور اسلام کے حقیقی پرامن پیغام کو اجاگر کرنے میں فعال کردار ادا کریں۔

ایوانِ صدر میں منعقدہ چھٹی بین الاقوامی پیغامِ اسلام کانفرنس 2026 کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ مسلم دنیا اس وقت مختلف چیلنجز، تنازعات، عدم استحکام اور تقسیم کا شکار ہے، جن پر قابو پانے کے لیے اجتماعی دانش اور اتحاد ناگزیر ہے۔ اجلاس میں سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف، سینیٹر سلیم مانڈوی والا، علما، سفارتکاروں اور مختلف ممالک کے وفود بشمول فلسطین اور سعودی عرب کے نمائندگان نے شرکت کی۔

صدر مملکت نے کہا کہ مغربی ایشیا میں حالیہ پیش رفت نے علاقائی استحکام اور معاشی حالات پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں جبکہ اسلام کے بارے میں عالمی سطح پر غلط تاثر بھی پیدا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرونی غلط فہمیوں کے ساتھ ساتھ داخلی فرقہ واریت بھی ان مسائل کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔

آصف علی زرداری نے کہا کہ اسلام امن، اعتدال اور انسانیت کا دین ہے اور انسانی جان کی حرمت اس کی بنیادی تعلیمات میں شامل ہے۔ انہوں نے علما پر زور دیا کہ وہ اسلامی اصولوں کی روشنی میں عملی اور فکری رہنمائی فراہم کریں تاکہ معاشرے میں رواداری، ہم آہنگی اور بقائے باہمی کو فروغ دیا جا سکے۔

پاکستان کے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ ملک نے انتہاپسندی کے خلاف جنگ میں عظیم قربانیاں دی ہیں اور ہر قسم کے تشدد کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے جنوبی ایشیا میں تنازعات خصوصاً جموں و کشمیر کے مسئلے کے پرامن حل کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

صدر مملکت نے فلسطینی عوام کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور القدس الشریف کو اس کا دارالحکومت بنانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے افغانستان میں امن کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ افغان سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔

انہوں نے سعودی عرب کی قیادت شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان کی مسلم امہ کے اتحاد اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کی کوششوں کو سراہا۔

صدر مملکت نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے دور میں اسلام کی تعلیمات کو سمجھنا اور دنیا تک اس کا مثبت پیغام پہنچانا پہلے سے زیادہ آسان ہو گیا ہے، جبکہ اسلام کی غلط تشریحات کو ختم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

چیئرمین پاکستان علماء کونسل علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ کانفرنس کا مقصد اسلام کے امن، محبت، رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کے پیغام کو اجاگر کرنا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی قیادت کے کردار اور قومی استحکام کے لیے کوششوں کو بھی سراہا۔

فلسطین کے مفتی اعظم محمد احمد حسین نے کانفرنس کے انعقاد پر پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین کا مسئلہ مسلم امہ کے لیے مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے پاکستان اور سعودی عرب کے تعاون کو امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے اہم قرار دیا۔

سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی نے کہا کہ فلسطین کا مسئلہ پوری مسلم دنیا کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے اور اس کے منصفانہ حل کے لیے اتحاد ضروری ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں کو بھی سراہا۔

وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا کہ پاکستان مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے اور امت مسلمہ میں نظریاتی اتحاد کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت کو سراہتے ہوئے قومی سلامتی کے تحفظ میں ان کے کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

اجلاس کے اختتام پر سعودی سفیر، چیئرمین پاکستان علماء کونسل اور سعودی وزارت مذہبی امور کے مشیر نے صدر مملکت کو یادگاری تحائف پیش کیے، جبکہ فلسطین کے مفتی اعظم، قاضی القضاۃ اور فلسطینی سفیر نے بھی صدر کو تحائف پیش کیے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
حسین Previous post شہید لیفٹیننٹ کرنل خالد حسین کی نمازِ جنازہ ادا، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی شرکت