شہباز شریف

ورلڈ ریفیوجی ڈے: وزیراعظم شہباز شریف کا عالمی برادری سے پناہ گزینوں کے تحفظ اور باعزت واپسی کے لیے مشترکہ ذمہ داری کا مطالبہ

Read Time:3 Minute, 16 Second

اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: وزیرِاعظم محمد شہباز شریف نے پناہ گزینوں کے حوالے سے پاکستان کے دیرینہ اور مستقل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ میزبان ممالک کی معاونت اور بے گھر افراد کی باعزت واپسی و دوبارہ انضمام کے لیے مشترکہ ذمہ داری ادا کرے۔

ورلڈ ریفیوجی ڈے کے موقع پر اپنے پیغام میں، جو اس سال “Until Everyone is Safe” کے موضوع کے تحت منایا جا رہا ہے، وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان دنیا بھر کے پناہ گزینوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتا ہے اور ان کی جرات، حوصلے اور استقامت کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے جو انہوں نے نقل مکانی اور مشکلات کے باوجود دکھائی۔

انہوں نے کہا کہ یہ موضوع اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ تحفظ ایک بنیادی انسانی حق ہے، اور تنازعات، عدم تحفظ اور دیگر بحرانوں کے باعث اپنے گھروں سے بے دخل ہونے والے افراد کی حفاظت اور بحالی عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ اگرچہ دنیا بھر میں ورلڈ ریفیوجی ڈے پناہ گزینوں کے مسائل کے بارے میں آگاہی اور ہمدردی کے فروغ کے لیے منایا جاتا ہے، لیکن پاکستان کے لیے یہ ایک انسانی وابستگی کی علامت ہے جو تقریباً پانچ دہائیوں سے عملی طور پر جاری ہے۔

انہوں نے 1979 کے بعد افغانستان سے آنے والے مہاجرین کی آمد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ محدود وسائل کے باوجود پاکستان نے لاکھوں افغان شہریوں کے لیے اپنی سرحدیں کھولیں اور انہیں رہائش، سہولت اور تحفظ فراہم کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے مہاجرین کے لیے کیمپس اور آبادیاں قائم کیں اور چار دہائیوں سے زائد عرصے تک دنیا کے بڑے مہاجر میزبان ممالک میں شامل رہا۔ پاکستان میں مقیم افغان خاندانوں کو تعلیم، صحت، روزگار اور دیگر بنیادی سہولیات تک رسائی دی گئی تاکہ وہ باعزت زندگی گزار سکیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے برسوں کے دوران لاکھوں افغان شہریوں کی فلاح و بہبود اور نقل و حرکت کو مؤثر طریقے سے منظم کیا ہے، اور ستمبر 2023 سے مرحلہ وار، منظم اور باوقار واپسی کا پروگرام جاری ہے۔

وزیراعظم کے مطابق جون 2026 تک 24 لاکھ سے زائد افغان شہری اپنے وطن واپس جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ محض اعداد و شمار نہیں بلکہ ان لاکھوں انسانوں کی کہانی ہے جنہوں نے مشکل حالات میں پاکستان میں تحفظ اور سہارا پایا۔

شہباز شریف نے اعتراف کیا کہ اتنی بڑی تعداد میں پناہ گزینوں کی میزبانی سے پاکستان کو معاشی، سماجی، ماحولیاتی اور سلامتی کے لحاظ سے نمایاں بوجھ کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ میزبان ممالک کی قربانیوں اور خدمات کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم اور معاونت دی جانی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پناہ گزینوں کی میزبانی اور ان کی واپسی کو سہل بنانا عالمی ذمہ داری ہے، اور ایک پرامن، مستحکم اور معاشی طور پر مضبوط افغانستان افغان شہریوں کی پائیدار واپسی اور دوبارہ انضمام کے لیے ناگزیر ہے۔

وزیراعظم نے اس سلسلے میں پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت (IOM)، اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (UNHCR) اور دیگر عالمی شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گی۔

انہوں نے پاکستانی عوام کی فراخدلی، ہمدردی اور یکجہتی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مشکلات کے باوجود پاکستانی قوم نے ہمیشہ اپنے وسائل، تعلیمی ادارے اور صحت کی سہولیات مہاجرین کے ساتھ بانٹیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کا انسانی ہمدردی پر مبنی رویہ دنیا کے لیے ایک مثال ہے اور یہ مہمان نوازی ملک کی تاریخ کا ایک قابلِ فخر باب ہے۔

اپنے پیغام کے اختتام پر وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اپنی وابستگی کو نئے سرے سے مضبوط کرے تاکہ بے گھر اور بے وطن افراد کو امید، امن اور محفوظ و باعزت واپسی کا موقع مل سکے، نہ کہ وہ مستقل جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوں۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
COP17 Previous post آذربائیجان: ماحولیات کے تحفظ سے متعلق اتحاد کا COP17 اور لیڈرز سمٹ سے شفاف اقدامات کا مطالبہ