انڈونیشیا

انڈونیشیا سرمایہ کاری کے لیے محفوظ ملک، تھائی لینڈ کے ساتھ 2030 تک 20 ارب ڈالر تجارت کا ہدف

Read Time:2 Minute, 28 Second

جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے مشیر ہاشم جوجوہادیکوسومو نے کہا ہے کہ انڈونیشیا اپنی دیرینہ غیر جانبدار اور آزاد خارجہ پالیسی کے باعث غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے ایک محفوظ اور پُرکشش منزل ہے، جہاں دنیا کے تمام ممالک سے سرمایہ کاری کا خیرمقدم کیا جاتا ہے۔

جکارتہ میں منعقدہ انڈونیشیا۔تھائی لینڈ بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا کی غیر وابستہ (نان الائنڈ) خارجہ پالیسی ملک کو مختلف جغرافیائی و سیاسی بلاکس سے تعلق رکھنے والے شراکت داروں کے لیے یکساں طور پر پرکشش بناتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا روس، چین، امریکہ، یورپ، جاپان اور آسٹریلیا سمیت مختلف ممالک سے مسلسل سرمایہ کاری حاصل کر رہا ہے، جو ملکی سرمایہ کاری کے ماحول پر عالمی اعتماد کا مظہر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام سرمایہ کاروں اور تجارتی شراکت داروں کو یقین دلایا جاتا ہے کہ ان کی سرمایہ کاری محفوظ ہے اور آئندہ بھی محفوظ رہے گی۔

ہاشم جوجوہادیکوسومو نے کہا کہ انڈونیشیا اور تھائی لینڈ کئی دہائیوں سے مضبوط اقتصادی تعلقات رکھتے ہیں اور دونوں ممالک نے 1997 کے ایشیائی مالیاتی بحران سمیت مشترکہ چیلنجز کا کامیابی سے مقابلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران کے دوران دونوں ممالک کی معیشتوں کو شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، تاہم کاروباری اداروں نے ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارتی سرگرمیاں، صنعتی تعاون اور سرحد پار کاروباری روابط ان کے اقتصادی انضمام کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور عالمی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر انڈونیشیا اور تھائی لینڈ کے درمیان مزید قریبی اقتصادی تعاون کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

ہاشم، جو صدر پرابوو سوبیانتو کے خصوصی ایلچی برائے موسمیاتی تبدیلی اور توانائی بھی ہیں، نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے، جبکہ انڈونیشیا اور تھائی لینڈ قریبی مستقبل میں دوطرفہ تجارت کو 20 ارب امریکی ڈالر تک بڑھانے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ دونوں حکومتوں نے مختلف شعبوں میں اسٹریٹجک تعاون کے فروغ کے ذریعے سال 2030 تک دوطرفہ تجارت کا حجم 20 ارب امریکی ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

یہ عزم انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو اور تھائی لینڈ کے قائم مقام وزیراعظم انوتین چارنویراکول کے درمیان جکارتہ کے مردیکا پیلس میں ہونے والی ملاقات کے بعد سامنے آیا، جہاں دونوں رہنماؤں نے 2026 سے 2030 کے لیے انڈونیشیا۔تھائی لینڈ اسٹریٹجک پارٹنرشپ روڈ میپ کی منظوری دی، جس کا مقصد مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینا ہے۔

صدر پرابوو سوبیانتو نے اس موقع پر کہا کہ اقتصادی تعاون دونوں ممالک کے تعلقات کا بنیادی ستون ہے اور انہیں یقین ہے کہ اسٹریٹجک شراکت داری کے روڈ میپ پر مؤثر عملدرآمد کے ذریعے 2030 تک 20 ارب امریکی ڈالر کی دوطرفہ تجارت کا ہدف حاصل کیا جا سکے گا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
مراکش Previous post نجی سرمایہ کاری کے حصول میں مراکش دنیا میں 11ویں، افریقہ میں تیسرے نمبر پر آگیا
آذربائیجان Next post آذربائیجان اور سوئٹزرلینڈ کے درمیان مشترکہ اقتصادی تعاون کمیشن کا دسواں اجلاس رواں خزاں میں ہوگا