
وزیراعظم شہباز شریف کا تشدد کے خاتمے کے عزم کا اعادہ، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر عالمی کارروائی کا مطالبہ
اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: وزیراعظم شہباز شریف نے تشدد کے متاثرین سے اظہارِ یکجہتی کے عالمی دن کے موقع پر تشدد کے ہر قسم کے خاتمے کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بالخصوص بھارتی غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر (IIOJK) میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے ذمہ دار عناصر کا فوری احتساب یقینی بنائے۔
26 جون کو ہر سال منائے جانے والے تشدد کے متاثرین سے اظہارِ یکجہتی کے عالمی دن کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر تشدد کی ہر شکل کے خاتمے اور انسانی وقار، انصاف اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے عزم کی تجدید کرتا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ تشدد، ظالمانہ، غیر انسانی اور توہین آمیز سلوک کسی بھی مہذب معاشرے میں ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسے گھناؤنے اقدامات نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں بلکہ بین الاقوامی قانون اور اسلام کے دائمی اصولوں کی بھی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انسانی جان کے تقدس اور وقار پر مبنی اسلامی تعلیمات اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کی روشنی میں پاکستان تشدد کے مکمل خاتمے کے لیے پُرعزم ہے اور تمام افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے قانونی اور ادارہ جاتی اقدامات کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ تشدد کے متاثرین کو بہترین طبی، نفسیاتی، قانونی اور سماجی معاونت فراہم کی جانی چاہیے، جبکہ ایسے جرائم کے مرتکب افراد کا احتساب ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان متعلقہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد، قانونی و ادارہ جاتی اصلاحات اور تحفظ، نگرانی اور داد رسی کے قومی نظام کو مزید مستحکم کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔
شہباز شریف نے غیر ملکی قابض طاقتوں کی جانب سے ریاستی جبر کے ہتھیار کے طور پر تشدد کے منظم استعمال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین اور بھارتی غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے عوام آج بھی قابض حکام کے ہاتھوں ریاستی جبر، وحشیانہ تشدد اور غیر انسانی سلوک کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے عالمی برادری کی توجہ بھارتی غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں ریاستی دہشت گردی اور جبر کا شکار افراد کی مشکلات کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا کہ من مانی گرفتاریاں، دورانِ حراست تشدد، جبری گمشدگیاں اور اجتماعی سزاؤں سمیت انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے اداروں اور متعدد معتبر بین الاقوامی رپورٹس میں مسلسل دستاویزی شکل دی جا چکی ہے۔
وزیراعظم نے اقوامِ متحدہ، عالمی برادری اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ ان سنگین خلاف ورزیوں کے مرتکب افراد کا مؤثر احتساب یقینی بنائیں۔
انہوں نے بھارتی غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں تشدد کا شکار متاثرین کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی جدوجہد کے لیے اپنی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ان کے حقِ خودارادیت کی بھرپور حمایت کرتا رہے گا۔