
اٹلی نے ایران کے خلاف امریکی کارروائی میں براہِ راست شرکت سے متعلق نیٹو سربراہ کا دعویٰ مسترد کر دیا
روم، یورپ ٹوڈے: اٹلی نے نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کے خلاف امریکی کارروائی میں اٹلی نے معاونت کی۔
اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی نے مارک روٹے کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے تنازع میں اٹلی نے کبھی کوئی حصہ نہیں لیا اور نہ ہی وہ کسی فوجی کارروائی میں شریک رہا۔
انہوں نے واضح کیا کہ اٹلی نے امریکی فوج کو صرف تکنیکی اور لاجسٹک معاونت فراہم کی تھی، جسے جنگی کارروائی میں شمولیت قرار نہیں دیا جا سکتا۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب نیٹو سربراہ مارک روٹے نے کہا تھا کہ ایران کے خلاف "آپریشن ایپک فیوری” کے دوران تقریباً 500 امریکی جنگی طیاروں نے اٹلی سے پرواز کی تھی۔
اطالوی حکومت نے ایک بار پھر مؤقف دہرایا کہ اس کا کردار صرف تکنیکی اور لاجسٹک تعاون تک محدود تھا اور اس نے ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی میں براہِ راست حصہ نہیں لیا۔