کمیٹی

قومی پیغامِ امن کمیٹی کا یومِ عاشور پر ملک بھر میں پرامن فضا برقرار رکھنے پر علما، سیکیورٹی اداروں اور حکومت کو خراجِ تحسین

Read Time:3 Minute, 34 Second

اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: پاکستان کی قومی پیغامِ امن کمیٹی نے یومِ عاشور کے موقع پر ملک بھر میں امن و امان برقرار رکھنے اور مذہبی ہم آہنگی کے فروغ پر علمائے کرام، مشائخ عظام، خطباء، مجالس و جلوسوں کے منتظمین، سیکیورٹی اداروں اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کی مشترکہ کاوشوں کو سراہتے ہوئے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

کمیٹی کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ محرم الحرام کے دوران ملک بھر میں قائم رہنے والا پرامن ماحول، مذہبی رواداری، بین المسالک ہم آہنگی اور باہمی احترام تمام مکاتبِ فکر، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور حکومتی اداروں کے مؤثر تعاون کا مظہر ہے۔

اعلامیہ وزیراعظم کے رابطہ کار برائے قومی پیغامِ امن کمیٹی اور چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کی جانب سے جاری کیا گیا، جس پر پیر نقیب الرحمن، مفتی عبدالرحیم، مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، مفتی کریم خان، ڈاکٹر آصف میر، علامہ عارف علوی، علامہ محمد حسین اکبر، علامہ توقیر عباس، مولانا عادل عطاری، حافظ محمد امجد، مولانا رمضان سیالوی، مولانا سمیع اللہ آغا، مولانا نعمان نعیم، حافظ مقبول احمد، مولانا زاہد منصور اور دیگر ممتاز علمائے کرام کے دستخط بھی موجود تھے۔

قومی پیغامِ امن کمیٹی نے پاکستان کی مسلح افواج، سیکیورٹی اداروں، چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کی پولیس، وفاقی و صوبائی حکومتوں اور انتظامیہ کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حساس ایام کے دوران امن و امان کی مؤثر بحالی ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا ثبوت ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ عاشورہ کا پرامن اختتام قومی اتحاد، مذہبی ہم آہنگی، بین المسالک رواداری اور عوامی تحفظ کے لیے کی جانے والی مشترکہ حکمت عملی کی کامیابی کا مظہر ہے۔ کمیٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وفاقی و صوبائی حکومتوں اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر انتہاپسندی اور فرقہ وارانہ تشدد کے خاتمے اور بین المسالک و بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

اس موقع پر حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے قومی پیغامِ امن کمیٹی کے ارکان، علمائے کرام، امن کمیٹیوں اور رضاکاروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور سیکیورٹی اداروں، علماء، خطباء اور منتظمین کے باہمی تعاون سے عاشورہ کے ایام امن، محبت، برداشت اور باہمی احترام کی فضا میں اختتام پذیر ہوئے۔

انہوں نے پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں تعینات پولیس، پاک فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پیشہ ورانہ خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ "معرکۂ حق” کے بعد کی علاقائی صورتحال اور حالیہ ایران۔اسرائیل کشیدگی کے باعث سیکیورٹی چیلنجز میں اضافہ ہوا، جبکہ بعض دشمن عناصر نے فرقہ وارانہ حساسیت کو ہوا دے کر ملک میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کی، تاہم تمام مکاتبِ فکر کے علماء، مذہبی تنظیموں، سیکیورٹی اداروں اور حکومتوں کی مشترکہ کوششوں سے ان سازشوں کو کامیابی سے ناکام بنایا گیا۔

انہوں نے اس کامیابی کو اللہ تعالیٰ کے فضل، وزیراعظم محمد شہباز شریف کی رہنمائی اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بصیرت افروز قیادت کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت نے محرم کے دوران قومی اتحاد اور امن کو مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ ضابطۂ اخلاق "پیغامِ پاکستان” کی خلاف ورزی سے متعلق چند شکایات سامنے آئیں، تاہم یہ مجموعی سرگرمیوں کے ایک فیصد سے بھی کم تھیں اور ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

حافظ طاہر محمود اشرفی نے امید ظاہر کی کہ محرم الحرام کے دوران جس اتحاد، امن، ہم آہنگی اور مذہبی رواداری کا مظاہرہ کیا گیا، وہ پورے سال برقرار رہے گا۔

انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، دیگر وفاقی و صوبائی وزراء، سرکاری اداروں اور انتظامیہ کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے ملک بھر میں محرم کے پرامن انعقاد کے لیے قومی پیغامِ امن کمیٹی سے بھرپور تعاون کیا۔

اپنے پیغام کے اختتام پر حافظ طاہر محمود اشرفی نے علمائے کرام، مذہبی رہنماؤں اور سیکیورٹی اداروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی مشترکہ کاوشوں نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ پاکستان کی تمام مذہبی برادریاں امن، قومی یکجہتی اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے متحد ہو سکتی ہیں۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
آذربائیجان Previous post آذربائیجان اور اٹلی کا اسٹریٹجک شراکت داری مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ