بلوچستان

پاکستان بحریہ کی مضبوطی، سمندری سرحدوں کے تحفظ اور علاقائی امن کے فروغ کے عزم کا اعادہ، وزیراعظم شہباز شریف

Read Time:5 Minute, 20 Second

کراچی، یورپ ٹوڈے: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان بحریہ کو مزید مضبوط بنانے، ملکی سمندری سرحدوں کے مؤثر تحفظ اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے حکومتی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بدلتے ہوئے علاقائی حالات میں بحری سلامتی کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے اور حکومت بحریہ کی جدید خطوط پر استعداد کار میں اضافے کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گی۔

وہ ہفتہ کے روز پاکستان نیول اکیڈمی پی این ایس رہبر میں 125ویں مڈشپ مین اور 33ویں شارٹ سروس کمیشن کورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کر رہے تھے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے بدلتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز کے باوجود ایک بار پھر اپنی پیشہ ورانہ مہارت، جرات اور آپریشنل صلاحیت کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے، جبکہ پاکستان بحریہ نے قومی سمندری مفادات کے تحفظ، سمندری تجارت کی بلا تعطل روانی اور حالیہ کشیدگی کے دوران مؤثر دفاعی صلاحیت برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے تربیت مکمل کرنے والے افسران کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان بحریہ میں ان کی شمولیت نہ صرف ان کے اہل خانہ کے لیے باعثِ فخر ہے بلکہ ملک کی دفاعی صلاحیت میں ایک اہم اضافہ بھی ہے۔

وزیراعظم نے کہا، "میں تمام فارغ التحصیل کیڈٹس کو کامیاب تربیت مکمل کرکے پاکستان بحریہ کے افسران کے طور پر کمیشن حاصل کرنے پر دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔” انہوں نے کہا کہ قوم کو امید ہے کہ نئے افسران نظم و ضبط، دیانت، پیشہ ورانہ مہارت اور فرض شناسی کے اعلیٰ جذبے کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دیں گے۔

شہباز شریف نے ترکیہ، بحرین، بنگلہ دیش، عراق، سری لنکا اور جبوتی سے تعلق رکھنے والے کیڈٹس کی تقریب میں شرکت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ان کی موجودگی پاکستان نیول اکیڈمی کی عالمی سطح پر ایک معیاری عسکری تربیتی ادارے کے طور پر بڑھتی ہوئی ساکھ کا مظہر ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ کراچی میں حاصل کی گئی تربیت ان ممالک کی بحری افواج میں ان کی مؤثر خدمات میں معاون ثابت ہوگی۔

وزیراعظم نے فارغ التحصیل افسران کے والدین کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیاں، حوصلہ افزائی اور دعائیں نوجوان افسران کی کامیابی میں بنیادی کردار رکھتی ہیں۔ انہوں نے پاکستان نیول اکیڈمی کے کمانڈنٹ، فیکلٹی اور تربیتی عملے کو بھی اعلیٰ عسکری معیار، نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ روایات برقرار رکھنے پر سراہا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر ایک ذمہ دار اور امن پسند ریاست کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے اور علاقائی و بین الاقوامی سطح پر مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کے پرامن حل کی ہمیشہ حمایت کی ہے۔

وزیراعظم نے چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے امن اور سفارت کاری کے فروغ میں کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا حالیہ دورۂ پاکستان دونوں برادر ہمسایہ ممالک کے مضبوط تعلقات اور خطے میں پاکستان کے مثبت کردار کا عکاس ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی تجارت، توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی سپلائی چین کے لیے محفوظ سمندری راستے ناگزیر ہیں، اسی لیے حکومت پاکستان بحریہ کی جدیدکاری اور استعداد میں مزید اضافہ جاری رکھے گی تاکہ وہ ہر قسم کے بحری چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹ سکے۔

وزیراعظم نے "معرکۂ حق” اور "آپریشن بنیان المرصوص” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے ان کارروائیوں کے دوران غیر معمولی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا، جبکہ پاکستان بحریہ نے دشمن کے عزائم کو ناکام بناتے ہوئے قومی سمندری مفادات کا کامیابی سے تحفظ کیا اور اپنی آپریشنل برتری برقرار رکھی۔

انہوں نے "آپریشن محافظ البحر” کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ اس آپریشن نے مشکل علاقائی حالات کے باوجود ضروری سمندری رسد کی بلا تعطل ترسیل کو یقینی بنایا، جو بحریہ کی تیاری، استقامت اور دفاعی و معاشی اہمیت کا واضح ثبوت ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کو اندرونی اور بیرونی سطح پر پیچیدہ سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ سال کے تنازع کے بعد مشرقی ہمسایہ ملک نے پراکسی سرگرمیوں میں اضافہ کیا ہے، جبکہ مغربی سرحد سے دہشت گردی بھی بدستور ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا، "پاکستان کی پوری قوم اپنی بہادر مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ملک کے خلاف ہر سازش کو ناکام بنانے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا ہر قیمت پر دفاع کرے گا، تاہم امن کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی پالیسی پر بھی عمل جاری رکھے گا۔

اپنے خطاب کے اختتام پر وزیراعظم نے جموں و کشمیر، غزہ اور فلسطین کے عوام کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ان کے جائز حقوق کے لیے ہر بین الاقوامی فورم پر آواز بلند کرتا رہے گا۔

اس سے قبل وزیراعظم کی قاسم نیول بیس آمد پر سندھ کے گورنر سید محمد نہال ہاشمی اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ان کا استقبال کیا، جبکہ پاکستان نیول اکیڈمی آمد پر چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے ان کا خیرمقدم کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ بھی موجود تھے۔

وزیراعظم نے نیول چیف کے ہمراہ پاسنگ آؤٹ پریڈ کا معائنہ کیا اور تربیت مکمل کرنے والے کیڈٹس کے چاق و چوبند دستوں کی سلامی لی۔ تقریب میں اعلیٰ عسکری حکام، سفارت کار، غیر ملکی کیڈٹس اور فارغ التحصیل افسران کے اہل خانہ نے شرکت کی۔

تقریب کے دوران وزیراعظم نے نمایاں کارکردگی دکھانے والے کیڈٹس میں سوورڈ آف آنر، پاکستان نیول اکیڈمی ڈرک، طلائی تمغے اور دیگر اعزازات تقسیم کیے۔ مڈشپ مین کیڈٹ عمر مختار کو سوورڈ آف آنر، مڈشپ مین ہادی عباس خان کو پاکستان نیول اکیڈمی ڈرک، شارٹ سروس کمیشن آفیسر الویرا حمزہ کو کمانڈنٹ گولڈ میڈل جبکہ کیڈٹ آفیسر آصف محمد احمد منور کو نمایاں کارکردگی پر چیف آف دی ڈیفنس فورس گولڈ میڈل سے نوازا گیا۔

تقریب کے اختتام پر پاکستان بحریہ کے ہیلی کاپٹروں نے شاندار فلائی پاسٹ کا مظاہرہ کیا جبکہ بحری جنگی جہازوں کے بیڑے نے بھی اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ پیش کیا۔ وزیراعظم نے مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات قلم بند کیے اور نمایاں کارکردگی دکھانے والے کیڈٹس کے ساتھ یادگاری گروپ فوٹو بھی بنوایا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
یورپ Previous post یورپ شدید گرمی کی لپیٹ میں، کئی ممالک میں جون کے درجہ حرارت کے ریکارڈ ٹوٹ گئے، اموات میں اضافہ
بلوچستان Next post بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی دو انٹیلی جنس کارروائیاں، فتنہ الہندوستان کے آٹھ دہشت گرد ہلاک