
پاکستان اور انڈونیشیا کی بحری افواج کا دفاعی و بحری تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق
جکارتہ، یورپ ٹوڈے: پاکستان بحریہ اور انڈونیشیا کی بحریہ نے بحری سلامتی، دفاعی تعاون اور دوطرفہ عسکری روابط کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک نے بدلتے ہوئے علاقائی بحری سیکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں باہمی تعاون کو فروغ دینے اور دفاعی روابط کو وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا۔
یہ پیش رفت 25 جون کو مشرقی جاوا کے شہر سورابایا میں پاکستان بحریہ کے اسسٹنٹ چیف آف نیول اسٹاف کموڈور انور سعید کی قیادت میں اعلیٰ سطحی وفد کی انڈونیشین بحریہ کے فلیٹ کمانڈ II کے کمانڈر ریئر ایڈمرل آئی جی پی علیت جایا سے نالا وی آئی پی بلڈنگ میں ہونے والی ملاقات کے دوران سامنے آئی۔
فلیٹ کمانڈ II کے شعبۂ اطلاعات کے سربراہ کرنل انتونیئس فبریوار پریما ہادی نے جمعہ کو ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس ملاقات نے دونوں بحری افواج کے درمیان رابطوں کو مزید مضبوط بنانے، بحری اسٹریٹجک ماحول میں ہونے والی پیش رفت پر تبادلۂ خیال کرنے اور برسوں پر محیط دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کا اہم موقع فراہم کیا۔
انہوں نے بتایا کہ ملاقات کے دوران دونوں فریقوں نے علاقائی بحری سلامتی کی صورتحال، سمندری ماحول میں درپیش نئے اسٹریٹجک چیلنجز اور ان سے نمٹنے کے لیے اپنی اپنی آراء اور تجربات کا تبادلہ کیا۔
مذاکرات میں بعد ازاں دونوں ممالک کی بحری سرحدوں کے تحفظ، بحری سلامتی کے فروغ اور دونوں بحری افواج کے درمیان دفاعی ہم آہنگی کو مزید مستحکم بنانے کے امکانات پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔
کرنل انتونیئس فبریوار پریما ہادی نے ملاقات کے دوران زیرِ غور آنے والی تجاویز یا ممکنہ معاہدوں کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں، تاہم انہوں نے کہا کہ دونوں جانب مستقبل میں دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے کے مختلف مواقع کا جائزہ لیا گیا۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں بحری وفود نے یادگاری شیلڈز کا تبادلہ کیا، جس سے خوشگوار ماحول اور دونوں بحری افواج کے درمیان تعمیری عسکری تعلقات برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اس ملاقات سے انڈونیشیا اور پاکستان کی بحری افواج کے درمیان تعلقات مزید مضبوط ہوں گے، جس کے نتیجے میں بحری دفاعی صلاحیتوں میں اضافے، باہمی تعاون کے فروغ اور مشترکہ سیکیورٹی مفادات کے تحفظ کے لیے دونوں ممالک کے درمیان تعاون مزید مؤثر بنایا جا سکے گا۔