رحمان

صدر امام علی رحمان کی زیر صدارت تاجک حکومت کا اجلاس

Read Time:3 Minute, 16 Second

دوشنبے، یورپ ٹوڈے: تاجکستان کے صدر امام علی رحمان کی زیر صدارت پیر کے روز حکومتِ تاجکستان کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک کے زرعی شعبے، دیہی تعلیمی ڈھانچے، سرمایہ کاری کے ماحول اور قابلِ تجدید توانائی کے فروغ سے متعلق متعدد اہم ترقیاتی پروگراموں کی منظوری دی گئی۔

اجلاس کے آغاز میں صدر امام علی رحمان نے گورنو-بدخشان خودمختار علاقے کے مرحوم گورنر علی شیر میرزونبوت کو خراجِ عقیدت پیش کیا، جن کی میت 30 جون کو دریائے پنج سے برآمد ہوئی تھی۔ صدر نے مرحوم کی قومی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کے ایصالِ ثواب کے لیے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی اور انہیں قوم کا مخلص خدمت گزار قرار دیا۔

اجلاس میں سب سے پہلے وزیر زراعت قربان حکیم زادہ کی جانب سے پیش کیے گئے 2026 تا 2030 کپاس کے شعبے کی جدید و اختراعی ترقی کے ریاستی پروگرام کا جائزہ لیا گیا اور اس کی منظوری دی گئی۔

اس پروگرام کا مقصد تاجکستان کی کپاس کی صنعت کو جدید خطوط پر استوار کرنا، روزگار کے مواقع میں اضافہ، ٹیکسٹائل اور غذائی صنعتوں کے لیے خام مال کی مستحکم فراہمی، برآمدات میں اضافہ اور جدید پیداواری طریقوں کے ذریعے پائیدار ترقی کو فروغ دینا ہے۔ حکام کے مطابق کپاس ملک کی معیشت، دیہی روزگار اور برآمدات میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔

پروگرام کے تحت ملکی اور غیر ملکی اقسام کی کپاس کی کاشت کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ اس شعبے میں انسانی وسائل کی استعداد بڑھانے پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی۔

کابینہ نے 2026 تا 2030 ریشم کے کیڑوں کی افزائش اور ریشم سازی کی صنعت کی ترقی کے پروگرام کی بھی منظوری دی، جس کا مقصد کویا (Cocoon) کی پیداوار میں اضافہ، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا، برآمدات کو فروغ دینا، سرمایہ کاری کو راغب کرنا اور ریشم سازی کی جدید ٹیکنالوجی متعارف کرانا ہے۔

اس پروگرام میں شہتوت کے باغات کے قیام و توسیع، ریشم کے کیڑوں کے انڈوں کی درآمد، افزائشِ نسل، کویا کی پیداوار اور تیار شدہ ریشمی مصنوعات کی تیاری سمیت پانچ اہم شعبوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

اجلاس میں 2027 تا 2031 دیہی لائبریریوں کی ترقی کے پروگرام کی بھی منظوری دی گئی، جس کا مقصد دیہی علاقوں میں لائبریری خدمات کو بہتر بنانا، عملے کی پیشہ ورانہ تربیت، تکنیکی سہولیات میں اضافہ اور لائبریری نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔

پروگرام کے تحت دیہی لائبریریوں کو کمپیوٹرز سے آراستہ کرنے، انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کرنے، الیکٹرانک کتب خانوں کے قیام، عملے کی ڈیجیٹل مہارتوں میں اضافہ اور بالخصوص بچوں اور نوجوانوں میں مطالعے کے فروغ کے اقدامات کیے جائیں گے۔

صدر امام علی رحمان نے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو ہدایت کی کہ منظور شدہ تمام پروگراموں پر مؤثر اور بروقت عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔

اجلاس میں 2026 کی دوسری ششماہی کے لیے حکومتی ورک پلان، سرکاری شماریات سے متعلق مجوزہ قانون، حکومتِ تاجکستان اور کرسٹل گرین گلاس ایل ایل سی کے درمیان کوارٹز پروسیسنگ، پینل گلاس اور شیشے کے برتن تیار کرنے والے کارخانوں کے قیام کے لیے سرمایہ کاری کے معاہدے، قابلِ تجدید توانائی سے پیدا ہونے والی بجلی کو قومی گرڈ میں شامل کرنے اور صارفین کو فروخت کرنے کے ضوابط، نیز تاجکستان کے سیاحتی ترقیاتی فنڈ کی معاونت سے متعلق امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے اختتام پر صدر نے تمام سرکاری اداروں کو ہدایت کی کہ اقوام متحدہ کی "مستقبل کی نسلوں کے لیے امن کی بین الاقوامی دہائی (2027–2036)” کی قرارداد کے مطابق ملک کے اندر اور عالمی سطح پر امن کے فروغ کے لیے جامع پروگرام تیار کیے جائیں۔

صدر امام علی رحمان نے مزید ہدایت کی کہ آبپاشی شدہ زرعی اراضی پر ثانوی فصلوں کی کاشت میں تیزی لائی جائے، بیجوں کے ذخائر کو مضبوط بنایا جائے اور تاجکستان کے قیامِ ریاست کی 35ویں سالگرہ کی تیاریوں کے سلسلے میں ملک بھر میں خوبصورتی، شجرکاری اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے منصوبوں پر عمل درآمد کو مزید تیز کیا جائے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
انڈونیشیا Previous post انڈونیشیا اور روس کے درمیان اقتصادی تعاون کے وسیع امکانات، صنعتی ترقی اور پائیدار معیشت کے فروغ پر زور
آذربائیجان Next post آذربائیجان امریکہ کا اہم تزویراتی شراکت دار، امریکی قیادت کی ضرورت پہلے سے زیادہ ہے: امریکی رکن کانگریس ابراہم حمادہ