
مراکش کی حکومتی کونسل کی اہم قانونی اصلاحات کی منظوری
رباط، یورپ ٹوڈے: مراکش کی حکومتی کونسل نے جمعرات کو عوامی اداروں کی جدیدکاری، بہتر طرزِ حکمرانی کے فروغ اور اہم تزویراتی شعبوں سے متعلق قانونی ڈھانچے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے متعدد مسودہ قوانین کی منظوری دے دی۔ اجلاس کی صدارت وزیرِاعظم عزیز اخنوش نے رباط میں کی۔
اجلاس میں عدول (قانونی دستاویزات کی توثیق کرنے والے عدالتی افسران) کے پیشے، قومی شماریاتی نظام اور ہائی کمیشن برائے منصوبہ بندی (ایچ سی پی) سے متعلق قانونی اصلاحات منظور کی گئیں، جبکہ مصر کے ساتھ کسٹمز تعاون کے معاہدے کا جائزہ لیا گیا اور اعلیٰ سرکاری عہدوں پر متعدد تقرریوں کی بھی منظوری دی گئی۔
کونسل نے وزیرِ انصاف کی جانب سے پیش کردہ مسودہ قانون نمبر 51.26 کی منظوری دی، جس کا مقصد عدول کے پیشے سے متعلق قانونی فریم ورک کو جدید بنانا اور اسے مراکش کی آئینی عدالت کے قانون نمبر 16.22 سے متعلق فیصلے کے مطابق ہم آہنگ کرنا ہے۔ اس قانون کے ذریعے عدول کے پیشہ ورانہ ضوابط کو مزید مضبوط بنایا جائے گا اور آئین کے آرٹیکل 134 کی مکمل پاسداری یقینی بنائی جائے گی۔
اسی طرح وزیرِ داخلہ کی جانب سے پیش کردہ مسودہ قانون نمبر 46.26 بھی منظور کیا گیا، جس کے تحت مراکش کے قومی شماریاتی نظام کے لیے نیا قانونی فریم ورک تشکیل دیا جائے گا۔ اس قانون کا مقصد سرکاری اعدادوشمار کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا، ادارہ جاتی ذمہ داریوں، نظم و نسق کے طریقہ کار اور بین الاقوامی شماریاتی اصولوں کو واضح کرنا ہے۔
قانون کے تحت قومی کونسل برائے شماریاتی معلومات کے قیام کی بھی منظوری دی گئی، جو ایک خودمختار ریگولیٹری ادارہ ہوگا اور اسے قانونی شخصیت اور مالی خودمختاری حاصل ہوگی۔ آئین کے آرٹیکل 159 کے تحت قائم ہونے والی یہ کونسل سرکاری شماریاتی معیار پر عملدرآمد کی نگرانی، قومی شماریاتی نظام کی کارکردگی کا جائزہ اور عوامی اعدادوشمار کے معیار اور اعتبار کو بہتر بنانے کی ذمہ دار ہوگی۔
ادارہ جاتی اصلاحات کے سلسلے میں حکومتی کونسل نے مسودہ قانون نمبر 47.26 بھی منظور کیا، جس کے تحت ہائی کمیشن برائے منصوبہ بندی (ایچ سی پی) کو ایک خودمختار، قانونی شخصیت رکھنے والے اور انتظامی و مالی آزادی کے حامل ادارے میں تبدیل کیا جائے گا۔
نئے قانونی ڈھانچے کے تحت ایچ سی پی سرکاری اعدادوشمار، قومی، علاقائی اور شعبہ جاتی حسابات کی تیاری کا عمل جاری رکھے گا، جبکہ عوامی ترقیاتی پالیسیوں کی ہم آہنگی، نگرانی اور جائزہ لینے میں بھی اس کا کردار مزید وسعت اختیار کرے گا، تاکہ مراکش کے نئے ترقیاتی ماڈل کے اہداف کے مطابق مؤثر حکمرانی کو فروغ دیا جا سکے۔
کونسل نے مصر کے ساتھ کسٹمز تعاون کے معاہدے کا بھی جائزہ لیا، جس کے ساتھ مسودہ قانون نمبر 37.26 پیش کیا گیا۔ وزیرِ صنعت و تجارت نے وزیرِ خارجہ، افریقی تعاون اور بیرونِ ملک مقیم مراکشی شہریوں کی جانب سے یہ معاہدہ پیش کیا، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان کسٹمز تعاون کو فروغ دینا اور باہمی روابط کو مزید مستحکم کرنا ہے۔
آئین کے آرٹیکل 92 کے تحت حکومتی کونسل نے متعدد اعلیٰ سرکاری تقرریوں کی بھی منظوری دی۔ یحییٰ اوکاش کو وزارتِ اقتصادی شمولیت، چھوٹے کاروبار، روزگار اور مہارتوں میں ڈائریکٹر برائے روزگار مقرر کیا گیا، جبکہ محمد امین لہراش کو وزارتِ ڈیجیٹل منتقلی و انتظامی اصلاحات میں ڈائریکٹر جنرل برائے ڈیجیٹل ٹرانزیشن تعینات کیا گیا۔
جمعرات کو منظور کی جانے والی یہ اصلاحات مراکش کی جانب سے ادارہ جاتی ڈھانچے کی جدیدکاری، عوامی نظم و نسق کو مؤثر بنانے، سرکاری اعدادوشمار کے معیار کو بہتر کرنے، تزویراتی سرکاری اداروں کی استعداد بڑھانے اور بین الاقوامی تعاون کو مزید فروغ دینے کی وسیع حکومتی حکمت عملی کا حصہ قرار دی جا رہی ہیں۔