
ایف بی آر کی ریکارڈ 12.957 کھرب روپے محصولات وصولی، وزیراعظم شہباز شریف کی افسران کو مبارکباد
اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مالی سال 2025-26 کے دوران وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے 12.957 کھرب روپے کے تاریخی محصولات کے ہدف سے تجاوز کرنے پر ادارے کے سینئر افسران اور تمام عملے کو مبارکباد دیتے ہوئے اس کامیابی کو پاکستان کی معاشی ترقی کے سفر میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔
وزیراعظم آفس میں ایف بی آر کے سینئر افسران سے ملاقات کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ یہ ریکارڈ کامیابی مسلسل اصلاحات، ڈیجیٹلائزیشن، شفافیت اور ادارہ جاتی ٹیم ورک کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے ایف بی آر کے تمام افسران اور ملازمین کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ وہ موجودہ مالی سال میں 15 کھرب روپے سے زائد محصولات کے حکومتی ہدف کے حصول کے لیے بھی اسی جذبے اور محنت سے کام کریں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران تقریباً 600 ارب روپے کے ٹیکس ریفنڈز کی بروقت ادائیگی سے کاروباری برادری کو خاطر خواہ ریلیف ملا اور برآمدات کے فروغ میں بھی مدد ملی۔
شہباز شریف نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، اٹارنی جنرل منصور اعوان، چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال، سیکریٹری خزانہ امداد اللہ بوسال، حکومتی اقتصادی ٹیم اور ایف بی آر کے افسران کی خدمات کو سراہتے ہوئے ادارے کی بہتر کارکردگی میں ان کے کردار کی تعریف کی۔
انہوں نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اسمگلنگ کی روک تھام اور ایف بی آر اہلکاروں کی سیکیورٹی یقینی بنانے پر خراج تحسین پیش کیا۔ وزیراعظم نے دور دراز علاقوں میں خدمات انجام دینے والے ایف بی آر افسران کی پیشہ ورانہ لگن، قربانیوں اور ٹیکس و کسٹمز قوانین کے مؤثر نفاذ کے لیے ان کی کاوشوں کو بھی سراہا۔
وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی برس کے دوران متعارف کرائی گئی اصلاحات، خصوصاً ڈیجیٹلائزیشن، شفافیت اور مؤثر ٹیم ورک نے ایف بی آر کی کارکردگی میں نمایاں بہتری پیدا کی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ذاتی طور پر ہر ماہ دو مرتبہ ایف بی آر کی کارکردگی کا جائزہ لیتے رہے ہیں، جو ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے حکومت کے عزم کا مظہر ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کے فیلڈ دفاتر میں دیانت دار اور باصلاحیت افسران تعینات کیے گئے ہیں تاکہ ادارے میں شفافیت اور احتساب کو مزید مضبوط بنایا جا سکے، جبکہ بدعنوان عناصر کے لیے ادارے میں کوئی جگہ نہیں۔
وزیراعظم نے ایف بی آر حکام کو ہدایت کی کہ محصولات کے حصول کے ساتھ ساتھ ٹیکس دہندگان کو سہولیات کی فراہمی کو بھی ترجیح دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس نیٹ میں توسیع، شفافیت کا فروغ اور ٹیکس دہندگان کے لیے خدمات میں بہتری حکومتی اصلاحاتی پروگرام کے بنیادی اہداف ہیں۔
شہباز شریف نے اعلان کیا کہ ایف بی آر کا نیا آپریٹنگ ماڈل مکمل طور پر ڈیجیٹل، فیس لیس ٹیکس انتظامی نظام پر مبنی ہوگا، جس میں انسانی مداخلت کو کم سے کم رکھا جائے گا۔ انہوں نے پاکستان کسٹمز سروس اور ان لینڈ ریونیو سروس کے افسران کے سروس اسٹرکچر اور ترقی کے مواقع بہتر بنانے کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے کی بھی ہدایت کی۔
اجلاس کے دوران ایف بی آر افسران نے وزیراعظم کی جانب سے ادارے پر مسلسل توجہ اور ان کی کارکردگی کے اعتراف پر شکریہ ادا کیا اور ملک بھر میں فیلڈ فارمیشنز کی کارکردگی سے متعلق بریفنگ دی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ جون 2026 کے دوران کراچی لارج ٹیکس پیئرز آفس نے 528 ارب روپے جبکہ لاہور لارج ٹیکس پیئرز آفس نے 261 ارب روپے کے محصولات جمع کیے۔ مزید بتایا گیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ملک کے ہوائی اڈوں پر کسٹمز ڈیوٹی کی وصولیوں میں 21 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، اٹارنی جنرل منصور اعوان، چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔