پاکستان

پاکستان کا مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرنے کا اعلان، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کی حمایت

Read Time:4 Minute, 22 Second

اقوامِ متحدہ، یورپ ٹوڈے: پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں کہا ہے کہ اس نے ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (MoU) پر عملدرآمد اور اس کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ اپنی سفارتی سرگرمیوں میں مزید تیزی لائی ہے، تاکہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے پائیدار حل کی راہ ہموار کی جا سکے۔

بحرین کی درخواست پر خلیجی خطے میں حالیہ کشیدگی، خصوصاً بحرین اور کویت پر ایران کے حملوں کے تناظر میں طلب کیے گئے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان کا مستقل مؤقف رہا ہے کہ خطے کے مسائل کا جامع اور دیرپا حل صرف سفارت کاری، مذاکرات اور مکالمے کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی قانون سے ہٹ کر طاقت کے استعمال کو ناقابلِ قبول سمجھتا ہے اور ایران پر بلاجواز حملوں کے ساتھ ساتھ خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے رکن ممالک کو نشانہ بنانے والے حملوں کی بھی مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے بحرین اور کویت کے عوام کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اعادہ بھی کیا۔

عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان ابتدا ہی سے اس یقین کے ساتھ سفارتی طور پر متحرک رہا ہے کہ مزید کشیدگی انسانی جانوں کے ضیاع میں اضافے اور علاقائی و عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔

انہوں نے ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو ’’سفارت کاری کی کامیابی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بدھ کے روز پاکستان اور قطر نے دوحہ میں الگ الگ ملاقاتوں کے دوران امریکی اور ایرانی مذاکراتی وفود سے بات چیت کی، جس میں فریقین نے مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ یہ حقیقت کہ مذاکرات جاری ہیں اور تمام فریق گفت و شنید کی میز پر موجود ہیں، ایک انتہائی مثبت پیش رفت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی قیادت متعلقہ فریقوں، علاقائی ممالک اور شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور کشیدگی میں کمی، اعتماد سازی اور سفارتی عمل کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

اجلاس کے دوران بحرین کے وزیرِ خارجہ عبداللطیف بن راشد الزیانی نے دعویٰ کیا کہ 28 فروری سے اب تک بحرین پر مجموعی طور پر 808 حملے کیے گئے، جن میں 203 بیلسٹک میزائل اور 605 مسلح ڈرونز شامل تھے۔

انہوں نے کہا کہ ان حملوں میں شہری تنصیبات، بنیادی ڈھانچے اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں تین شہری ہلاک جبکہ 465 افراد زخمی ہوئے۔ ان کے مطابق 5 اپریل کو ایک ایرانی ڈرون نے گنجان آباد علاقے میں واقع امونیا ذخیرہ کرنے والے ٹینک کو نشانہ بنایا، تاہم پیشگی حفاظتی اقدامات کی بدولت ایک بڑے انسانی المیے سے بچاؤ ممکن ہوا۔

بحرینی وزیرِ خارجہ نے ان حملوں کو اقوامِ متحدہ کے منشور اور سلامتی کونسل کی قرارداد 2817 (2026) کی خلاف ورزی قرار دیا۔

دوسری جانب اقوامِ متحدہ میں امریکہ کے مستقل مندوب مائیکل والٹز نے کہا کہ ایران کو عالمی معیشت کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام بحری جہازوں کی نقل و حرکت روک دی، جس سے ترقی پذیر ممالک سمیت عالمی تجارت متاثر ہوئی۔

انہوں نے اقوامِ متحدہ کی تجارتی و ترقیاتی ایجنسی کے حوالے سے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات 61 ترقی پذیر معیشتوں پر طویل مدت تک مرتب ہو سکتے ہیں۔

ادھر اقوامِ متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے امریکی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے امریکہ پر ایران کے خلاف جھوٹے الزامات اور گمراہ کن معلومات پھیلانے کا الزام عائد کیا۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے دوران امریکہ اور اسرائیل نے سفارت کاری کو نقصان پہنچاتے ہوئے ایران کے خلاف جارحانہ کارروائیاں کیں، جو اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ ان کے بقول ایران اس جارحیت کا شکار ہوا ہے اور متاثرہ فریق کو ہی موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

ایرانی مندوب نے بعض مغربی ممالک اور بحرین کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کو بھی بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اصل مسئلے سے توجہ ہٹا کر ایران کو ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ امریکہ نے 8 اپریل کی جنگ بندی اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کی خودمختاری کے خلاف مزید کارروائیاں کیں، تاہم اس کے باوجود ایران نے پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات میں نیک نیتی کے ساتھ شرکت کی، جس کے نتیجے میں 17 جون کو مفاہمتی یادداشت طے پائی۔

امیر سعید ایروانی نے کہا کہ خلیج فارس میں امریکی فوجی اڈوں اور بیرونی مداخلت سے خطے میں عدم استحکام پیدا ہوتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ترجیح اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر مکمل عملدرآمد اور جامع معاہدے کے حصول کے لیے مذاکرات کے تسلسل کو دی جانی چاہیے، جبکہ سلامتی کونسل کو بھی اس سفارتی عمل کی حمایت کرنی چاہیے اور ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو کشیدگی میں اضافے یا سفارت کاری کو نقصان پہنچانے کا سبب بنیں۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
آذربائیجان Previous post آذربائیجان انجینئرنگ اکیڈمی اور انسٹی ٹیوشن آف انجینئرز پاکستان کے درمیان انجینئرنگ تعاون کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط