پزشکیان

شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کا پیغامِ اتحاد، وقار، آزادی اور مزاحمت آج پہلے سے زیادہ مؤثر ہے، صدر مسعود پزشکیان

Read Time:2 Minute, 56 Second

تہران، یورپ ٹوڈے: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ شہید رہبرِ انقلابِ اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی رہنمائی آج بھی دنیا بھر کی اقوام کے لیے مشعلِ راہ ہے اور اتحاد، وقار، آزادی اور مزاحمت کا ان کا پیغام پہلے سے کہیں زیادہ قوت کے ساتھ گونج رہا ہے۔

صدر پزشکیان نے ہفتے کے روز تہران میں منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس "امام خامنہ ای؛ مزاحمت کے ابدی رہنما” سے خطاب کرتے ہوئے ملکی و غیر ملکی شرکاء کا خیرمقدم کیا، جو شہید رہبرِ انقلاب کی یاد میں منعقدہ تقریبات میں شرکت کے لیے ایران پہنچے تھے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ اجتماع عالمِ اسلام میں اتحاد و یکجہتی کو مزید مضبوط بنانے اور تشدد، دہشت گردی اور عالمی استکباری قوتوں کی بالادستی پر مبنی پالیسیوں کے خلاف مشترکہ تعاون کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

صدر پزشکیان نے آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت کو ایک المناک مگر حوصلہ افزا سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ الٰہی رہنماؤں کا راستہ، نظریات اور پیغام ان کی شہادت کے ساتھ ختم نہیں ہوتے بلکہ آئندہ نسلوں کو عدل، حق اور مزاحمت کے راستے پر گامزن رہنے کی ترغیب دیتے رہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شہید رہبرِ انقلاب نے اتحاد، آزادی، قومی وقار اور مزاحمت کے فروغ میں تاریخی کردار ادا کیا اور ان کی رہنمائی نے ایران کی سرحدوں سے باہر بھی کروڑوں انسانوں کو متاثر کیا۔ ان کے بقول آج شہید رہبرِ انقلاب کی تعلیمات کی بدولت اتحاد، وقار، آزادی اور مزاحمت کا پیغام مختلف مذاہب اور اقوام کے درمیان بھی گونج رہا ہے۔

ایرانی صدر نے اسلامی اتحاد کو محض ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کا خدا، رسولؐ اور مقدس کتاب ایک ہے، اس لیے فرقہ وارانہ یا سیاسی اختلافات کو امتِ مسلمہ کے اتحاد میں رکاوٹ نہیں بننے دینا چاہیے۔

انہوں نے حضرت علیؑ اور حضرت محمد ﷺ کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی معاشرے کی بنیاد اخوت، مفاہمت اور باہمی احترام پر رکھی گئی تھی، جبکہ تاریخ گواہ ہے کہ اتحاد ہمیشہ مسلمانوں کی اصل قوت رہا ہے۔

صدر پزشکیان نے کہا کہ اگر مسلم ممالک مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کریں تو غزہ، لبنان اور فلسطین جیسے علاقوں میں جاری تنازعات اور انسانی بحران اس طرح جاری نہیں رہ سکتے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اسلامی فرقوں اور نسلی گروہوں کے درمیان اختلافات بیرونی طاقتوں کو خطے میں مداخلت اور کشیدگی بڑھانے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

انہوں نے خطے میں اسرائیلی اقدامات اور ان کی امریکی حمایت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دانشوروں، سائنس دانوں اور دیگر مؤثر شخصیات کو منظم انداز میں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی اداروں کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کے دعویدار یہ ادارے ایسے اقدامات کو روکنے میں ناکام رہے ہیں۔

ایرانی صدر نے عالمِ اسلام کے علما، مذہبی رہنماؤں، پالیسی سازوں اور دانشوروں پر زور دیا کہ وہ مسلم ممالک کے درمیان مکالمے، باہمی اعتماد اور تعاون کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ دیگر توحیدی مذاہب کے پیروکاروں کے ساتھ بھی مثبت روابط کو مستحکم کریں۔

اپنے خطاب کے اختتام پر صدر مسعود پزشکیان نے انصاف کے قیام، اسلامی یکجہتی کے فروغ اور اتحاد کے ذریعے خطے میں امن و استحکام کے لیے ایران کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر مسلم اقوام مشترکہ اقدار اور اجتماعی عزم کے ساتھ متحد رہیں تو کوئی بیرونی طاقت ان کی ترقی اور پیش رفت کا راستہ نہیں روک سکتی۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
چینی Previous post دوشنبے: چینی ثقافتی دن کے موقع پر وحدت شہر کی تین دہائیوں پر محیط سماجی، اقتصادی اور ثقافتی کامیابیاں پیش کی گئیں
مراکش Next post مراکش نے کینیڈا کو 3-0 سے شکست دے کر فیفا ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی