
تاجکستان اور ایران کا دوطرفہ تعاون مزید وسعت دینے پر اتفاق، تجارت ایک ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اظہار
تہران، یورپ ٹوڈے: جمہوریہ تاجکستان کے صدر امام علی رحمان نے جمعہ کو تہران میں اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعاون کے فروغ، علاقائی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے آغاز میں صدر امام علی رحمان نے ایران کے سابق سپریم لیڈر شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت پر ایرانی قیادت اور عوام سے ایک بار پھر دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔
دونوں رہنماؤں نے تاجکستان اور ایران کے درمیان مختلف شعبوں میں جاری تعاون کی مسلسل پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے دوطرفہ تعلقات کے مثبت اور مستحکم رخ کو سراہا۔
انہوں نے اقتصادی اور تجارتی تعاون کے فروغ میں مشترکہ بین الحکومتی کمیشن کے مؤثر کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فورم دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
ملاقات کے دوران بتایا گیا کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت میں آٹھ گنا اضافہ ہوا ہے، جو 2025 میں تقریباً 50 کروڑ امریکی ڈالر تک پہنچ گئی۔ دونوں صدور نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ موجودہ امکانات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مستقبل قریب میں باہمی تجارتی حجم ایک ارب امریکی ڈالر تک بڑھایا جا سکتا ہے۔
صدر امام علی رحمان اور صدر مسعود پزشکیان نے صنعت، توانائی، معدنیات، زراعت، شاہراہوں کی تعمیر، ٹرانسپورٹ، سیاحت اور صحت سمیت اہم شعبوں میں مشترکہ منصوبوں پر عمل درآمد کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
علاقائی سلامتی کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے امید ظاہر کی کہ خطے میں امن اور مفاہمت کی کوششیں مزید آگے بڑھیں گی اور علاقائی تنازعات کے حل کے لیے سیاسی اور سفارتی ذرائع کو ہی ترجیح دی جائے گی۔
ملاقات کے اختتام پر صدر امام علی رحمان اور صدر مسعود پزشکیان نے تاجکستان اور ایران کے درمیان جامع تعاون کو مزید وسعت دینے، باہمی شراکت داری کو مضبوط بنانے اور دونوں برادر ممالک کے درمیان دیرینہ دوستی اور برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔