
ترکمانستان گیس منصوبوں پر پیش رفت، OGT 2026 میں توانائی و سرمایہ کاری پر عالمی مشاورت
اشک آباد، یورپ ٹوڈے: ترکمانستان اپنے توانائی کے شعبے میں اہم منصوبوں پر تیزی سے پیش رفت جاری رکھے ہوئے ہے، جن میں دنیا کے بڑے گیس ذخائر میں شمار ہونے والے گالکینیش گیس فیلڈ کی مزید ترقی، بحیرۂ کیسپیئن کے ترکمان سیکٹر میں منصوبے اور ترکمانستان۔افغانستان۔پاکستان۔بھارت (TAPI) گیس پائپ لائن کی تعمیر شامل ہیں۔ ترکمان انرجی فورم (TEF) کے مطابق ان سمیت توانائی کے شعبے سے متعلق دیگر اہم موضوعات پر 31ویں بین الاقوامی کانفرنس و نمائش OGT 2026 کے دوران غور کیا جائے گا، جو 21 سے 23 اکتوبر 2026 تک اشک آباد میں منعقد ہوگی۔
ترکمانستان کی طویل المدتی حکمتِ عملی قدرتی وسائل کی ذمہ دارانہ ترقی، برآمدی راستوں میں تنوع، جدید ٹیکنالوجی کے فروغ اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی پر مرکوز ہے، تاکہ توانائی کے شعبے کی پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔
بیان کے مطابق، دنیا کے سب سے بڑے گیس ذخائر میں شامل گالکینیش گیس فیلڈ کی ترقی حکومت کے کلیدی منصوبوں میں شامل ہے۔ اس منصوبے کے چوتھے مرحلے کے تحت پیداواری صلاحیت اور بنیادی ڈھانچے کو مزید وسعت دی جائے گی، جس سے ای پی سی کنٹریکٹرز، انجینئرنگ کمپنیوں، ٹیکنالوجی فراہم کرنے والوں اور سروس اداروں کے لیے نئی کاروباری مواقع پیدا ہوں گے۔
ترکمانستان بحیرۂ کیسپیئن کے ترکمان سیکٹر میں بھی توانائی کے منصوبوں کو آگے بڑھا رہا ہے۔ اس ضمن میں پیٹروناس (PETRONAS) کے ساتھ آف شور بلاکس 19 اور 20 پر تعاون جاری ہے، جبکہ اضافی سیسمک سروے بھی کیے جا رہے ہیں۔ رواں سال ترکمانستان اور چین نے گیس کے شعبے میں اپنے تعاون کی 20ویں سالگرہ منائی، جبکہ ترکمانستان اور پیٹروناس کے درمیان شراکت داری کے 30 برس مکمل ہونے کا جشن بھی منایا گیا۔
علاقائی اہمیت کے حامل TAPI گیس پائپ لائن منصوبے پر بھی کام جاری ہے، جو تکمیل کے بعد خطے کے سب سے بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں شمار ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ ترکمانستان گیس پروسیسنگ، پیٹروکیمیکل صنعت، ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر، ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز اور جدید انجینئرنگ حل میں بھی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔
فورم کے منتظمین کے مطابق OGT 2026 کے دوران ان تمام شعبوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ کانفرنس میں حکومتی اداروں، قومی و بین الاقوامی توانائی کمپنیوں، سرمایہ کاروں، مالیاتی اداروں، انجینئرنگ تنظیموں اور ٹیکنالوجی فراہم کرنے والی کمپنیوں کے نمائندے شرکت کریں گے، جہاں سرمایہ کاری کے مواقع، آف شور گیس فیلڈز کی ترقی، گیس پروسیسنگ، ڈیجیٹل تبدیلی، مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال، میتھین گیس کے اخراج میں کمی اور بین الاقوامی توانائی تعاون کے فروغ جیسے اہم موضوعات زیرِ بحث آئیں گے۔