مراکش

مراکش میں متعدد دہشت گرد حملوں کی سازشیں ناکام، داعش سے وابستہ 10 مشتبہ شدت پسند گرفتار

Read Time:2 Minute, 59 Second

رباط، یورپ ٹوڈے: مراکش کے مرکزی بیورو برائے عدالتی تحقیقات (BCIJ) نے پیر کے روز اعلان کیا ہے کہ ملک بھر میں مشترکہ سیکیورٹی کارروائیوں کے دوران دہشت گردی کے متعدد انتہائی خطرناک منصوبے ناکام بنا دیے گئے، جو تکمیل کے آخری مراحل میں تھے۔ کارروائی کے دوران شدت پسند تنظیم داعش سے مبینہ طور پر وابستہ 10 مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔

بی سی آئی جے کے مطابق یہ کارروائی جنرل ڈائریکٹوریٹ فار ٹیریٹوریل سرویلنس (DGST) کی جانب سے فراہم کردہ خفیہ معلومات کی بنیاد پر عمل میں لائی گئی۔ خصوصی سیکیورٹی ٹیموں کی طویل نگرانی اور انٹیلی جنس کارروائیوں کے بعد آغادیر، تارودانت، کاسابلانکا، الحاجب، تطوان، فقیہ بن صالح اور صفی سمیت مختلف شہروں میں بیک وقت چھاپے مارے گئے۔

حکام کے مطابق گرفتار مشتبہ افراد مبینہ طور پر عوامی سلامتی اور حساس تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، جبکہ انہیں ساحل (Sahel) خطے میں موجود داعش کے کارندوں کی جانب سے لاجسٹک رہنمائی اور عملی معاونت بھی فراہم کی جا رہی تھی۔

گرفتاریوں کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں نے ملزمان کی رہائش گاہوں کی تلاشی لی، جہاں سے دہشت گرد سرگرمیوں میں استعمال ہونے والا مختلف سامان برآمد کیا گیا۔ برآمد شدہ اشیاء میں دھار دار ہتھیار، فوجی طرز کی وردیاں، دھماکہ خیز مواد تیار کرنے کی ہدایات پر مشتمل انتہا پسندانہ لٹریچر، ڈیجیٹل آلات، داعش سے وفاداری کے اعلانات پر مشتمل ویڈیوز اور مراکش میں حملوں کی دھمکیوں پر مبنی ریکارڈنگز شامل ہیں۔

تحقیقات کے دوران شہر اینزگان میں واقع ایک گودام کی بھی تلاشی لی گئی، جہاں سے ایک فور ویل ڈرائیو گاڑی برآمد ہوئی، جس کے فیول ٹینک میں مبینہ طور پر ترمیم کر کے اسے بیوٹین گیس پر چلنے کے قابل بنایا گیا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس گاڑی کو خودکش حملے یا حساس مقامات پر گاڑی چڑھا کر حملہ کرنے کے لیے استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔

مراکش کے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف نیشنل سیکیورٹی نے گاڑی کا معائنہ کرنے اور ممکنہ خطرات کا جائزہ لینے کے لیے جدید ریموٹ کنٹرول روبوٹس اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس خصوصی بم ڈسپوزل یونٹ تعینات کیا۔

مزید تلاشی کے دوران متعدد بیوٹین گیس سلنڈر، کیلوں سے بھرے پریشر ککر، برقی تاریں، ویلڈنگ کا سامان، برقی سرکٹ بریکرز، چھوٹے بلب اور مختلف کیمیائی مادے بھی برآمد ہوئے، جن کے بارے میں تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ انہیں دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (IEDs) تیار کرنے کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔

تحقیقاتی حکام کے مطابق مشتبہ افراد نے داعش کے سربراہ سے وفاداری کا حلف اٹھا رکھا تھا اور انہیں تنظیم کے ساحل میں موجود نیٹ ورک سے منسلک اعلیٰ کارندوں کی جانب سے ہدایات موصول ہو رہی تھیں۔ مبینہ طور پر انہیں بیرونِ ملک داعش کے زیرِ قبضہ علاقوں میں جانے کے بجائے مراکش ہی میں رہ کر دہشت گرد حملے کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔

تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ مبینہ سیل کے سربراہ نے ارکان کے درمیان مختلف ذمہ داریاں تقسیم کر رکھی تھیں، جن میں ممکنہ اہداف کا انتخاب، نگرانی، معلومات جمع کرنا اور حملوں کے لیے موزوں مقامات کی نشاندہی شامل تھی۔

حکام نے تمام بالغ مشتبہ افراد کو پولیس تحویل میں لے لیا ہے، جبکہ ایک کم عمر ملزم کو عدالتی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔ سیکیورٹی ادارے اس بات کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں کہ اس نیٹ ورک کے داعش کی افریقی شاخ، خصوصاً ساحل خطے میں سرگرم عناصر، سے روابط کی نوعیت کیا تھی، اور آیا اس کے مزید قومی یا بین الاقوامی روابط بھی موجود تھے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
بابر اعظم Previous post بابر اعظم کا ٹیسٹ ٹیم کی قیادت سنبھالنے سے قبل نظم و ضبط، فٹنس اور کارکردگی کو ترجیح دینے کے عزم کا اظہار
سنگاپور Next post سنگاپور کا انڈونیشیا کے مزید شہروں کے لیے براہِ راست پروازوں کے آغاز کی حمایت، دوطرفہ تعاون کے فروغ پر زور