ویتنام

ویتنام کا آسیان کے ساتھ 31 سالہ سفر علاقائی انضمام اور مضبوط تعاون کے عزم کا مظہر

Read Time:6 Minute, 39 Second

ہنوئی، یورپ ٹوڈے: ویتنام نے 1995 میں جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان میں شمولیت کے بعد سے اس علاقائی تنظیم کو اپنی خارجہ پالیسی کا اہم ستون قرار دیتے ہوئے آسیان کمیونٹی کے تینوں بنیادی ستونوں اور مختلف تعاون کے طریقہ کار میں فعال کردار ادا کیا ہے۔

آسیان کے ساتھ ویتنام کا 31 سالہ سفر علاقائی انضمام کے لیے اس کے مضبوط عزم، قائدانہ جذبے، ذمہ دارانہ طرزِ عمل اور متحد و مضبوط آسیان کمیونٹی کی تشکیل میں فعال کردار کا نمایاں ثبوت ہے۔

ویتنام آسیان کے ایک اہم رکن کے طور پر علاقائی امن و استحکام کے فروغ، شراکت دار ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے، تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے آسیان کی اقتصادی رابطہ کاری سے مؤثر استفادہ کرنے اور سماجی و اقتصادی ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے آسیان اور اس کے شراکت داروں کے تعاون، وسائل اور معاونت سے فائدہ اٹھانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

ویتنام نے آسیان کی متعدد اہم ذمہ داریاں کامیابی سے انجام دی ہیں، جن میں 1998 میں چھٹی آسیان سربراہی کانفرنس کی میزبانی اور 2010 اور 2020 میں آسیان کی صدارت شامل ہیں۔

2020 میں آسیان کی صدارت کے دوران ویتنام نے خطے کے لیے متعدد اہم اقدامات پیش کیے، جن میں آسیان کووڈ۔19 ردعمل فنڈ، عوامی صحت کی ہنگامی صورتحال کے لیے آسیان علاقائی طبی سامان کا ذخیرہ، عوامی صحت کی ہنگامی صورتحال کے لیے آسیان تزویراتی فریم ورک، آسیان جامع بحالی فریم ورک اور عوامی صحت کی ہنگامی صورتحال اور ابھرتی ہوئی بیماریوں کے لیے آسیان مرکز شامل ہیں۔

ویتنام نے آسیان کے مستقبل کی سمت متعین کرنے والے متعدد اہم فیصلوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا، جن میں 1997 کا آسیان وژن 2020، 1998 کا ہنوئی ایکشن پلان، 2003 کا اعلامیہ آسیان کنکورڈ دوم جس کے تحت آسیان کمیونٹی کے قیام کی بنیاد رکھی گئی، 2007 کا آسیان چارٹر، آسیان کمیونٹی وژن 2025 اور آسیان کمیونٹی وژن 2045 شامل ہیں۔

آسیان وژن 2045 پر عملدرآمد کے آغاز کے بعد ویتنام دیگر رکن ممالک کے ساتھ مل کر تزویراتی منصوبوں کو عملی تعاون کے پروگراموں میں تبدیل کرنے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ ویتنام نے آسیان فیوچر فورم بھی شروع کیا اور اس کی میزبانی کی، جو علاقائی تعاون اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ آسیان کے روابط پر مکالمے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم بنتا جا رہا ہے۔

آسیان کے اندرونی اور علاقائی رابطوں کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ ویتنام نے چین، بھارت، جاپان، جمہوریہ کوریا، برطانیہ اور نیوزی لینڈ سمیت بیرونی شراکت داروں کے ساتھ آسیان کے تعلقات کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔

ویتنام 2009 سے 2012 تک چین، 2012 سے 2015 تک یورپی یونین، 2015 سے 2018 تک بھارت، 2018 سے 2021 تک جاپان اور 2021 سے 2024 تک جمہوریہ کوریا کے ساتھ آسیان کے تعلقات کے رابطہ کار ملک کے طور پر خدمات انجام دے چکا ہے۔

اس وقت ویتنام 2024 سے 2027 تک برطانیہ اور نیوزی لینڈ کے ساتھ آسیان کے تعلقات کے رابطہ کار ملک کی حیثیت سے ذمہ داریاں ادا کر رہا ہے۔ ویتنام ان شراکت داروں کے ساتھ فعال روابط جاری رکھتے ہوئے آسیان کمیونٹی وژن 2045 پر عملدرآمد کے لیے ان کی معاونت اور عملی تعاون حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

آسیان کے اندر ویتنام کے بڑھتے ہوئے کردار اور مقام کو تنظیم کے شراکت داروں اور عالمی برادری کی جانب سے بھی تیزی سے تسلیم کیا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت ویتنام کی جانب سے اپنی خارجہ پالیسی، نئے عالمی تناظر میں بین الاقوامی انضمام سے متعلق قرارداد نمبر 59 اور خارجہ پالیسی پر عملدرآمد سے متعلق قرارداد نمبر 06 سمیت کمیونسٹ پارٹی آف ویتنام کی دیگر تزویراتی پالیسیوں پر عملدرآمد کی مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہے۔

آسیان: مضبوط، جدت پسند، متحرک اور عوام مرکز کمیونٹی

8 اگست 1967 کو قائم ہونے والی آسیان تقریباً چھ دہائیوں کے دوران علاقائی تعاون اور رابطہ کاری کے ایک کامیاب ماڈل کے طور پر ابھری ہے۔ تنظیم نے جنوب مشرقی ایشیا کے 11 ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرتے ہوئے علاقائی اور عالمی امور میں اپنے مقام کو مزید مستحکم کیا ہے۔

آسیان میں انڈونیشیا، تھائی لینڈ، فلپائن، سنگاپور، ملائیشیا، برونائی، ویتنام، لاؤس، میانمار، کمبوڈیا اور مشرقی تیمور شامل ہیں۔

گزشتہ چھ دہائیوں کے دوران آسیان کی کامیابیوں کی بنیاد تنظیم کے اندر مضبوط تعاون کے طریقہ کار پر قائم ہے، جس میں معاہدے، فورمز، سربراہی اجلاس، ترقیاتی منصوبے اور پروگرام، آسیان آزاد تجارتی علاقہ اور مختلف علاقائی ثقافتی و کھیلوں کی سرگرمیاں شامل ہیں۔

تنظیم نے اندرونی علاقائی تعاون کو گہرا کرنے کے ساتھ ساتھ بڑی عالمی طاقتوں اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ شراکت داری بھی وسیع کی ہے۔

آسیان نے آسیان علاقائی فورم، مشرقی ایشیا سربراہی اجلاس، آسیان وزرائے دفاع اجلاس اور آسیان وزرائے دفاع پلس اجلاس جیسے آسیان کی قیادت میں قائم علاقائی طریقہ کار کے ذریعے علاقائی ڈھانچے میں اپنے مرکزی کردار کو مزید مضبوط کیا ہے۔ ان فورمز نے مشترکہ علاقائی چیلنجز سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

آسیان کے تعاون کے طریقہ کار کو اس کے مکالماتی شراکت داروں، خصوصاً بڑی عالمی طاقتوں کی جانب سے مسلسل بھرپور حمایت اور شرکت حاصل ہو رہی ہے۔ یہ تنظیم کی مؤثر رابطہ کاری، حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت اور شراکت دار ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھنے کی صلاحیت کا مظہر ہے۔

2015 میں آسیان کمیونٹی باضابطہ طور پر قائم کی گئی، جس کی رہنمائی آسیان کمیونٹی وژن 2025 اور اس کے تین بنیادی ستونوں، یعنی سیاسی و سلامتی، اقتصادی اور سماجی و ثقافتی کمیونٹی کے منصوبوں سے ہوتی ہے۔ ان کا مقصد قواعد پر مبنی، سیاسی طور پر متحد، اقتصادی طور پر مربوط اور سماجی طور پر ذمہ دار ایسی کمیونٹی تشکیل دینا ہے جو عوام پر مرکوز اور عوام دوست ہو۔

ایک دہائی کے دوران آسیان کمیونٹی کے قیام کے بعد تنظیم نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، جس سے خطے میں امن، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ میں اس کے اہم کردار کو مزید تقویت ملی ہے۔

آسیان سیاسی و سلامتی کمیونٹی کے منصوبے پر عملدرآمد کی شرح 99.6 فیصد، آسیان اقتصادی کمیونٹی کی 98 فیصد اور آسیان سماجی و ثقافتی کمیونٹی کی 100 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جبکہ آسیان رابطہ کاری ماسٹر پلان 2025 پر عملدرآمد کی شرح 85 فیصد رہی۔

آسیان نے اپنی اقتصادی حیثیت بھی نمایاں طور پر مستحکم کی ہے۔ 2015 میں 2.5 کھرب امریکی ڈالر کی مجموعی قومی پیداوار کے ساتھ دنیا کی ساتویں بڑی معیشت ہونے والی آسیان 2025 میں 4.16 کھرب ڈالر کی مجموعی قومی پیداوار کے ساتھ دنیا کی پانچویں بڑی معیشت بن چکی ہے اور توقع ہے کہ 2030 تک یہ دنیا کی چوتھی بڑی معیشت بن جائے گی۔

آسیان کے وسیع آزاد تجارتی معاہدوں کے نیٹ ورک، جس میں علاقائی جامع اقتصادی شراکت داری بھی شامل ہے، نے علاقائی اقتصادی انضمام کو مزید وسعت دی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل معیشت، سبز منتقلی، نیلی معیشت، برقی گاڑیوں کے نظام اور کاربن غیرجانبداری جیسے نئے معاشی شعبوں کو بھی پائیدار ترقی کے اہداف سے ہم آہنگ کرتے ہوئے فروغ دیا جا رہا ہے۔

ان کامیابیوں کی بنیاد پر آسیان کے رہنماؤں نے مئی 2025 میں ملائیشیا میں منعقدہ 46ویں آسیان سربراہی اجلاس کے دوران آسیان کمیونٹی وژن 2045 اور اس سے منسلک چار تزویراتی منصوبوں کی منظوری دی۔ ان اقدامات کا مقصد آئندہ دو دہائیوں کے لیے ایک مضبوط، جدت پسند، متحرک اور عوام مرکز آسیان کی تعمیر کی سمت متعین کرنا ہے۔

عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے باوجود آسیان نے وژن 2045 پر عملدرآمد کے پہلے سال میں امن و سلامتی، خوشحالی اور عوام کو بااختیار بنانے سمیت اپنی اہم ترجیحات میں حوصلہ افزا پیش رفت کی ہے۔

ویتنام کا آسیان کے ساتھ 31 سالہ فعال سفر اور تنظیم کے اندر اس کا بڑھتا ہوا کردار اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ علاقائی تعاون، اقتصادی انضمام، امن و استحکام اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ میں ویتنام خود کو ایک ذمہ دار اور فعال شراکت دار کے طور پر منوا چکا ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
انڈونیشیا Previous post انڈونیشیا اور پاکستان کے درمیان صحت و ادویہ کے شعبوں میں کاروباری تعاون بڑھانے پر زور
تاجکستان Next post تاجکستان میں پانی، موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے نوجوانوں کے فعال کردار پر زور