
ویتنامی قیادت کا جدید، مربوط اور پائیدار انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لیے جامع اصلاحات پر زور
ہنوئی، یورپ ٹوڈے: ویتنام کی کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکریٹری اور صدر ٹو لام نے ملک میں انفراسٹرکچر کی منصوبہ بندی اور ترقی کے نظام میں جامع اصلاحات پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ جدید دور میں انفراسٹرکچر صرف ترقی کی بنیاد نہیں بلکہ قومی مسابقت اور معاشی استحکام کا فیصلہ کن عنصر بن چکا ہے، جس کے لیے طویل المدتی حکمت عملی اور مؤثر انتظام ناگزیر ہے۔
جمعرات کو ہنوئی میں حکومتی پارٹی کمیٹی اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے صدر ٹو لام نے 2012 میں منظور کی گئی قرارداد نمبر 13-NQ/TW اور پولیٹ بیورو کے اختتامی اعلامیہ نمبر 72-KL/TW پر عمل درآمد کا جائزہ لیا، جن کا مقصد ویتنام کو ایک جدید صنعتی ملک بنانے کے لیے مربوط انفراسٹرکچر کی ترقی ہے۔
اپنے اختتامی خطاب میں انہوں نے کہا کہ انفراسٹرکچر کی کامیابی کا معیار صرف اس کی تعمیر نہیں بلکہ عوام، کاروباری شعبے اور قومی معیشت کو حاصل ہونے والے عملی فوائد ہونے چاہییں۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل کی منصوبہ بندی میں طویل المدتی قومی ترقیاتی حکمت عملی، معاشی جغرافیہ، جدید ٹیکنالوجی، مارکیٹ کے رجحانات، آبادی میں تبدیلیوں اور موسمیاتی تغیرات کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔
صدر ٹو لام نے اس بات پر زور دیا کہ جسمانی، ڈیجیٹل، سماجی اور قدرتی انفراسٹرکچر کی متوازن اور ہم آہنگ ترقی کو یقینی بنایا جائے، جبکہ ٹرانسپورٹ، توانائی، لاجسٹکس، شہری ترقی اور دیگر بنیادی ڈھانچوں کے درمیان مؤثر روابط قائم کیے جائیں تاکہ ملک کے مختلف علاقوں اور اقتصادی مراکز کے درمیان رابطے مزید مضبوط ہوں۔
انہوں نے انفراسٹرکچر کو ایک اہم اقتصادی شعبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاست کو وسائل کی فراہمی اور قومی اہمیت کے حامل بین الصوبائی منصوبوں میں سرمایہ کاری کی قیادت کرنی چاہیے تاکہ ملکی پیداوار، اختراع اور صنعتی ترقی کو فروغ مل سکے۔
صدر نے ہدایت کی کہ مستقبل کے تمام ترقیاتی منصوبوں میں قومی دفاع، سلامتی، ماحولیاتی تحفظ، ڈیجیٹل تبدیلی اور گرین ٹرانزیشن کو بھی منصوبہ بندی کا لازمی حصہ بنایا جائے۔ انہوں نے علاقائی مالیاتی ہم آہنگی کے مؤثر نظام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مختلف صوبے مشترکہ انفراسٹرکچر منصوبوں میں سرمایہ کاری، انتظام اور فوائد کی تقسیم کے لیے مل کر کام کریں۔
انہوں نے سرمایہ کاری کے انتظام اور انفراسٹرکچر اثاثوں کی نگرانی کے نظام میں بنیادی اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی منصوبے کی منظوری اس وقت تک نہ دی جائے جب تک زمین، سرمایہ، تعمیراتی سامان، ٹیکنالوجی، افرادی قوت اور متعلقہ بنیادی ڈھانچے کی مکمل تیاری نہ ہو۔ انہوں نے منصوبوں میں تاخیر، لاگت میں غیر ضروری اضافے یا ناقص کارکردگی پر متعلقہ اداروں کے سربراہان کی واضح ذمہ داری مقرر کرنے کی بھی ہدایت کی۔
صدر ٹو لام نے انفراسٹرکچر منصوبوں، اثاثوں اور منصوبہ بندی سے متعلق ایک متحدہ قومی ڈیجیٹل ڈیٹا بیس کے فوری قیام اور سرمایہ کاری، نگرانی اور آپریشن میں مصنوعی ذہانت (AI) اور جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے وسیع استعمال پر زور دیا۔ ان کے مطابق منصوبوں کی کامیابی کا معیار صرف فنڈز کے اجرا کی شرح نہیں بلکہ تعمیراتی معیار، بروقت تکمیل، باہمی رابطے اور عملی افادیت ہونا چاہیے۔
انہوں نے قومی وسائل کو ترجیحی بنیادوں پر ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس راہداریوں، اندرونی آبی گزرگاہوں، قومی اور شہری ریلوے نظام، بجلی کی پیداوار و ترسیل، توانائی ذخیرہ کرنے کے منصوبوں، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور قومی کمپیوٹنگ صلاحیت کی ترقی کے لیے مختص کرنے کی ہدایت کی۔
صدر نے شہری انفراسٹرکچر میں موجود رکاوٹوں کے خاتمے، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے، آبی تحفظ، ڈیموں کی حفاظت اور صنعتی مراکز، بندرگاہی شہروں، ساحلی علاقوں اور میکونگ ڈیلٹا میں پائیدار ترقی کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ عوامی سرمایہ کاری بنیادی اور قومی اہمیت کے حامل منصوبوں میں قائدانہ کردار ادا کرے، جبکہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) کے نظام کو مزید مؤثر بنا کر نجی شعبے کی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ درمیانی اور طویل مدتی سرمایہ جاتی منڈیوں کی ترقی، انفراسٹرکچر منصوبوں سے زمین کی بڑھتی ہوئی قدر سے فائدہ اٹھانے اور بین الاقوامی مالی وسائل کو متنوع بنانے کی بھی ضرورت ہے۔
صدر ٹو لام نے اختیارات کی مزید نچلی سطح تک منتقلی، شفاف احتساب، قومی اثاثوں کے مؤثر تحفظ، بدعنوانی اور وسائل کے ضیاع کے خلاف سخت اقدامات اور سرمایہ کاری کے نظم و ضبط پر مکمل عمل درآمد کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ قومی اہمیت کے بین الصوبائی منصوبوں کی نگرانی مرکزی سطح پر مربوط انداز میں جاری رہنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ویتنام کا ہدف 2045 تک ایک ایسا جدید، ذہین، ماحول دوست، محفوظ اور موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ انفراسٹرکچر نظام قائم کرنا ہے جو پورے ملک کو باہم مربوط کرے، عالمی منڈیوں سے مؤثر انداز میں جوڑے اور تمام شہریوں کو معیاری بنیادی سہولیات تک مساوی رسائی فراہم کرے۔
اجلاس کے اختتام پر صدر نے حکومت، وزارتوں، مقامی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ وہ اختراعی انداز اپناتے ہوئے وسائل کا مؤثر استعمال یقینی بنائیں تاکہ آج کیے جانے والے انفراسٹرکچر منصوبے آئندہ نسلوں کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کریں اور ویتنام کی خودمختار، پائیدار اور خوشحال ترقی کا ذریعہ بنیں۔