مراکش

مراکش اور چلی کے درمیان زرعی صحت کے شعبے میں تعاون کا معاہدہ، تجارت کے فروغ کی راہ ہموار

Read Time:2 Minute, 32 Second

رباط، یورپ ٹوڈے: مراکش اور چلی نے زرعی اور غذائی تجارت کو وسعت دینے کی جانب اہم پیش رفت کرتے ہوئے قرنطینہ، پودوں کے تحفظ اور حیوانی صحت کے شعبوں میں تعاون کے ایک پروٹوکول پر دستخط کیے ہیں۔

یہ معاہدہ مراکش کے قومی دفتر برائے غذائی تحفظ اور چلی کی زرعی و حیوانی خدمات کے درمیان جمعہ کو طے پایا۔ پروٹوکول کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارت کی جانے والی زرعی اور غذائی مصنوعات سے متعلق صحت اور نباتاتی تحفظ کے طریقہ کار کو ہم آہنگ کرنا ہے۔

معاہدے کے تحت انتظامی تقاضوں کو آسان بنانے اور سرحدی مقامات پر مصنوعات کی جانچ اور کارروائی کے لیے درکار وقت کم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ حکام کے مطابق اس اقدام سے زرعی تجارت کے بہاؤ کو مزید ہموار بنانے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی معیار کے مطابق دونوں ممالک کی زرعی پیداوار کے تحفظ کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔

چلی میں مراکش کی سفیر کنزہ الغالی نے معاہدے کو دونوں ممالک کے درمیان صحت و حفظانِ صحت کے معیار پر باہمی اعتماد کے قیام اور زرعی و غذائی تجارت کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے کی جانب ایک فیصلہ کن قدم قرار دیا۔

انہوں نے جنوبی امریکا کے بائی اوشیانک کوریڈور اور مراکش میں مستقبل کے اطلس بحر اوقیانوس کی بندرگاہ الداخلة جیسے بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی صلاحیت کو بھی اجاگر کیا۔ ان کے مطابق یہ منصوبے جنوبی امریکا، افریقہ اور بحر اوقیانوس کو ملانے والے تکمیلی رسدی مراکز کے طور پر ترقی کرسکتے ہیں۔

کنزہ الغالی نے کہا کہ مستقبل میں یہ پیش رفت مراکش اور چلی کے درمیان سمندری تجارتی راہداری کے قیام میں معاون ثابت ہوسکتی ہے، جس سے تجارتی راستوں میں تنوع اور دونوں سمتوں میں رسدی روابط کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔

چلی کی بین الاقوامی اقتصادی تعلقات کی نائب وزیر پاؤلا ایسٹیویز کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تجارت تقریباً ایک کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 8 کروڑ ڈالر سے زائد ہوگئی ہے، جو دوطرفہ تجارت میں نمایاں اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ باہمی تجارت میں مزید اضافے کی وسیع گنجائش موجود ہے اور مراکش کو چلی کے بین الاقوامی اقتصادی تعلقات میں تنوع پیدا کرنے کی کوششوں میں ایک اسٹریٹجک شراکت دار اور افریقی منڈی تک ممکنہ دروازے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

چلی کے نائب وزیر زراعت فرانسسکو وینیشیئن ارثوا نے کہا کہ حکومت ایسے ممالک کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے اپنے زرعی شعبے کی بین الاقوامی مسابقتی صلاحیت مضبوط بنانے کی خواہاں ہے جو یکساں صحت و حفظانِ صحت کے معیارات اور اقتصادی کشادگی کے عزم کے حامل ہوں۔

چلی کی زرعی و حیوانی خدمات کے ڈائریکٹر جنرل ڈومنگو روخاس نے کہا کہ یہ معاہدہ مراکش کے قومی دفتر برائے غذائی تحفظ کے ساتھ کئی سالہ تعاون کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پروٹوکول دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی تعاون کو مزید گہرا کرنے، صحت و حفظانِ صحت کے معیارات پر باہمی اعتماد بڑھانے اور زرعی تجارت کو مزید متحرک بنانے کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
شہباز شریف Previous post وزیراعظم شہباز شریف کا ہنگو آپریشن میں کیپٹن حمزہ اکرم کی شہادت پر اظہارِ افسوس
انڈونیشیا Next post انڈونیشیا کی برکس رکن ممالک سے عالمی تجارتی نظام میں تعاون مزید گہرا کرنے کی اپیل