
جرمنی کا مراکش کے ساتھ مضبوط شراکت داری کا اعادہ، دوطرفہ تجارت دوگنا ہونے پر اطمینان
برلن، یورپ ٹوڈے: جرمنی نے مراکش کے ساتھ اپنی مضبوط شراکت داری کا ایک بار پھر اعادہ کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو "انتہائی مضبوط” قرار دیا ہے، جبکہ اعلیٰ جرمن حکام نے تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون میں نمایاں پیش رفت کو دونوں ممالک کے بڑھتے ہوئے اعتماد اور قریبی روابط کا مظہر قرار دیا ہے۔
برلن میں مراکش کے یومِ تخت نشینی (Throne Day) کی استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جرمن وزارتِ خارجہ کے اسٹیٹ سیکریٹری گیزا آندریاس فان گائر نے کہا کہ رباط اور برلن کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری مسلسل مستحکم ہو رہی ہے اور دونوں ممالک مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ حالیہ برسوں کے دوران جرمنی اور مراکش کے درمیان دوطرفہ تجارت میں دو گنا اضافہ ہوا ہے، جو اقتصادی تعلقات میں تیزی سے آنے والی وسعت کا واضح ثبوت ہے۔ ان کے مطابق مراکش کا جدید انفراسٹرکچر، اس کا اہم جغرافیائی محلِ وقوع اور اعلیٰ مہارت یافتہ افرادی قوت جرمن سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کے لیے غیرمعمولی کشش رکھتی ہے۔
جرمن حکومت مراکش کو شمالی افریقہ میں اپنے اہم ترین شراکت داروں میں شمار کرتی ہے۔ جرمن وفاقی دفترِ خارجہ کے مطابق، مراکش افریقہ میں جرمنی کے لیے دوسرا بڑا سرمایہ کاری کا مرکز اور تیسرا بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ اس وقت تقریباً 300 جرمن کمپنیاں مراکش میں سرگرم عمل ہیں، جو تقریباً 35 ہزار افراد کو روزگار فراہم کر رہی ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم مسلسل بڑھ رہا ہے۔
دونوں ممالک کے تعلقات میں حالیہ مثبت پیش رفت مراکش۔جرمنی کثیرالجہتی اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے تسلسل کا نتیجہ ہے، جس کے ذریعے تجارت، قابلِ تجدید توانائی، موسمیاتی اقدامات، ہجرت، فنی و پیشہ ورانہ تربیت اور علاقائی سلامتی سمیت متعدد شعبوں میں تعاون کو فروغ ملا ہے۔ دونوں حکومتوں نے باہمی مفاد کے اسٹریٹجک شعبوں میں شراکت داری کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ بھی کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق جرمنی کی جانب سے مراکش کے ساتھ تعلقات کی مضبوطی کا اعادہ اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ مراکش خطے میں ایک اہم اقتصادی مرکز اور قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر اپنی حیثیت مزید مستحکم کر رہا ہے، جبکہ دونوں ممالک سیاسی روابط، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔