مراکش

مراکش اور آسیان کا باہمی تعلقات مزید مستحکم بنانے اور عملی تعاون کے فروغ پر اتفاق

Read Time:2 Minute, 21 Second

جکارتہ، یورپ ٹوڈے: مراکش اور جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم (آسیان) نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور مختلف اہم شعبوں میں عملی، نتیجہ خیز اور باہمی مفاد پر مبنی تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

اس عزم کا اظہار جکارتہ میں آسیان کے سیکریٹری جنرل کاؤ کم ہورن اور آسیان کے لیے مراکش کے نو تعینات سفیر رضوان حسینی کے درمیان ملاقات کے دوران کیا گیا۔ سفیر حسینی نے آسیان سیکریٹریٹ میں اپنی اسنادِ سفارت پیش کیں۔

آسیان کے سیکریٹری جنرل نے سفیر حسینی کو ان کی تقرری پر مبارکباد دیتے ہوئے مراکش اور آسیان کے درمیان 2023 میں قائم کیے گئے شعبہ جاتی مذاکراتی شراکت داری (Sectoral Dialogue Partnership) کو مزید مضبوط بنانے کے لیے آسیان سیکریٹریٹ کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے دونوں فریقوں کے درمیان تعلقات میں مثبت پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے آسیان کمیونٹی کی تشکیل و استحکام کی کوششوں کے لیے مراکش کی حمایت کو سراہا۔

کاؤ کم ہورن نے مراکش پر زور دیا کہ وہ آسیان کے مختلف شعبہ جاتی اداروں کے ساتھ اپنے روابط اور عملی شمولیت کو مزید وسعت دے تاکہ موجودہ ادارہ جاتی تعاون کو ٹھوس اور دونوں جانب کے لیے مفید اقدامات میں تبدیل کیا جا سکے۔

ملاقات کے دوران سفیر رضوان حسینی نے مراکش کے اس ممکنہ کردار کو اجاگر کیا کہ وہ جنوب مشرقی ایشیا اور افریقہ کے درمیان ایک مؤثر پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے مراکش کے تزویراتی جغرافیائی محلِ وقوع، مضبوط بنیادی ڈھانچے اور افریقی براعظم کے ساتھ دیرینہ روابط کو اس سلسلے میں اہم عوامل قرار دیا۔

انہوں نے تجارت، سرمایہ کاری اور ترقی کے شعبوں بالخصوص آسیان، مراکش اور افریقہ کے درمیان تکونی تعاون کے فروغ کے وسیع امکانات پر بھی روشنی ڈالی۔

مذاکرات میں باہمی مکالمے، اعتدال پسندی، ریاستی خودمختاری کے احترام اور تنازعات کے پرامن حل کے اصولوں کے لیے مشترکہ عزم کا بھی اظہار کیا گیا۔

مراکش نے 2016 میں جنوب مشرقی ایشیا میں عہدِ مودت و تعاون (Treaty of Amity and Cooperation) میں شمولیت اختیار کی، جبکہ ستمبر 2023 میں وہ آسیان کا شعبہ جاتی مذاکراتی شراکت دار بن گیا۔ اس طرح مراکش شمالی افریقہ کا پہلا ملک بن گیا جسے یہ حیثیت حاصل ہوئی۔

سفیر رضوان حسینی کی تقرری آسیان کے ساتھ مراکش کی سفارتی وابستگی کو مزید مستحکم کرتی ہے۔ آسیان سیکریٹریٹ کے مطابق، وہ 2010 کے بعد علاقائی تنظیم کے لیے مراکش کے پہلے باقاعدہ طور پر تسلیم شدہ سفیر ہیں۔ وہ سفیر ودیع بن عبداللہ کے جانشین ہیں، جن کی سفارتی مدت اپریل 2025 میں اختتام پذیر ہوئی تھی۔

تازہ ترین سفارتی رابطے سے مراکش اور آسیان کے تعلقات کو نئی رفتار ملنے اور جنوب مشرقی ایشیا، مراکش اور وسیع تر افریقی خطے کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور ترقی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے مزید مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
آذربائیجان Previous post کلچر کلرز سیزن 5 میں آذربائیجان کے ثقافتی ورثے کی خصوصی پیشکش ہوگی
ویتنام Next post ویتنام اور آسٹریلیا کے تعلقات میں مثبت پیش رفت، تعاون کے نئے شعبوں میں وسعت پر زور