
ویتنام اور آسٹریلیا کے تعلقات میں مثبت پیش رفت، تعاون کے نئے شعبوں میں وسعت پر زور
سڈنی، یورپ ٹوڈے: ویتنام کی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکریٹری اور صدر تو لام نے کہا ہے کہ ویتنام اور آسٹریلیا کے تعلقات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں اور وقت کے ساتھ مزید مؤثر، ٹھوس اور گہرے ہوتے جا رہے ہیں، خصوصاً ان شعبوں میں جو آنے والی دہائیوں میں دونوں ممالک کی مسابقتی صلاحیت اور خوشحالی کے لیے اہم کردار ادا کریں گے۔
انہوں نے یہ بات آسٹریلیا کے سرکاری دورے کے دوران پیر کو نیو ساؤتھ ویلز کی گورنر مارگریٹ بیزلے سے ملاقات میں کہی۔
ویتنامی رہنما نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ نیو ساؤتھ ویلز اور ویتنام کے مختلف مقامی اداروں کے درمیان تعاون میں مزید وسعت آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط سیاسی تعلقات، عوامی سطح پر بڑھتے ہوئے روابط اور بنیادی ڈھانچے و فضائی رابطوں میں بہتری اس تعاون کو مزید مستحکم بنانے میں معاون ثابت ہوگی۔
تو لام نے آسٹریلیا میں ویتنامی کافی کی مختلف اقسام کی کاشت کے امکانات تلاش کرنے کی تجویز دی اور اعلیٰ ٹیکنالوجی پر مبنی زراعت، حیاتیاتی ٹیکنالوجی، زرعی مصنوعات کی پراسیسنگ، تجارت اور سرمایہ کاری سمیت متعدد شعبوں میں تعاون مضبوط بنانے پر زور دیا۔
انہوں نے آسٹریلیا کی ترقی کے لیے ویتنام کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ویتنام آسیان اور بحرالکاہل کے خطے کے درمیان روابط اور تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے آسٹریلیا کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔
اس موقع پر نیو ساؤتھ ویلز کی گورنر مارگریٹ بیزلے نے تو لام اور ان کے اعلیٰ سطحی ویتنامی وفد کا ریاست میں پرتپاک خیرمقدم کیا۔ انہوں نے آسٹریلوی معاشرے میں ویتنامی نژاد شہریوں کی قابلِ قدر خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ویتنامی نژاد آسٹریلوی برادری کے متعدد افراد نے مختلف شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور ریاست میں اہم عہدوں اور ذمہ داریوں پر فائز ہیں۔
گورنر بیزلے نے سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت کو دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کے نئے ستون بنانے کی ویتنامی صدر کی تجویز کی بھرپور حمایت کی۔ انہوں نے اعلیٰ معیار کے انسانی وسائل کی تیاری، زرعی تعاون کے فروغ اور ان شعبوں میں شراکت داری بڑھانے کی اہمیت پر بھی زور دیا جہاں نیو ساؤتھ ویلز اور ویتنام ایک دوسرے کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
نیو ساؤتھ ویلز آسٹریلیا کی قدیم ترین ریاست ہے اور آسٹریلوی وفاق کے قیام میں اس نے مرکزی کردار ادا کیا۔ یہ ریاست آج بھی ملک کی سماجی و اقتصادی ترقی کے اہم محرکات میں شمار ہوتی ہے، جبکہ اس کا دارالحکومت سڈنی آسٹریلیا کے نمایاں عالمی شہروں میں شامل ہے۔
ویتنام نیو ساؤتھ ویلز کے لیے ایک اہم برآمدی منڈی ہے، خصوصاً اشیا اور تعلیمی خدمات کے شعبوں میں۔ تعلیم اور تربیت دونوں فریقوں کے درمیان تعاون کا ایک اہم میدان ہے، جہاں نیو ساؤتھ ویلز کی معروف جامعات، بشمول یونیورسٹی آف سڈنی، یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز اور یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی سڈنی، بڑی تعداد میں ویتنامی طلبہ کو راغب کرتی ہیں۔
نیو ساؤتھ ویلز اور ہو چی منہ سٹی نے 2019 میں باضابطہ دوستی اور تعاون کے تعلقات قائم کیے تھے، جو ویتنام اور آسٹریلیا کے درمیان مقامی اور علاقائی سطح پر تعاون کو وسعت دینے کے لیے ایک اہم بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
ملاقات میں ہونے والی گفتگو نے ویتنام اور آسٹریلیا کے باہمی تعلقات میں بڑھتی ہوئی گہرائی کو اجاگر کیا اور جدت، ٹیکنالوجی، زراعت، تعلیم، تجارت اور سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں مستقبل کے وسیع تر تعاون کے امکانات کو نمایاں کیا۔