
امریکہ، آرمینیا اور آذربائیجان کا جنوبی قفقاز میں پائیدار امن اور علاقائی استحکام کے عزم کا اعادہ
باکو، یورپ ٹوڈے: امریکہ، آرمینیا اور آذربائیجان نے تاریخی وائٹ ہاؤس امن سربراہی اجلاس کی پہلی سالگرہ کے موقع پر مشترکہ اعلامیے پر دستخط کرتے ہوئے امن کے استحکام، علاقائی سلامتی کے فروغ اور جنوبی قفقاز کی اقتصادی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
آذربائیجان کی وزارت خارجہ کے مطابق مشترکہ اعلامیہ ایک سال قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی میزبانی میں منعقدہ تاریخی سربراہی اجلاس کی یاد میں جاری کیا گیا، جس میں آذربائیجان کے صدر الہام علییف اور آرمینیا کے وزیراعظم نیکول پاشینیان نے امن سے متعلق مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے تھے۔ تینوں رہنماؤں کی موجودگی میں آرمینیا اور آذربائیجان کے وزرائے خارجہ نے دونوں ممالک کے درمیان امن کے قیام اور بین الریاستی تعلقات کے قیام سے متعلق معاہدے کے مسودے کو بھی ابتدائی طور پر منظور کیا تھا۔
مشترکہ اعلامیے میں اس سربراہی اجلاس کو ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا گیا جس نے کئی دہائیوں پر محیط تنازع کے خاتمے اور جنوبی قفقاز میں زیادہ پرامن اور خوشحال مستقبل کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ امن کے فروغ کے لیے کوششوں کے اعتراف میں صدر الہام علییف اور وزیراعظم نیکول پاشینیان نے مشترکہ طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد بھی کیا۔
تینوں ممالک نے گزشتہ ایک سال کے دوران حاصل ہونے والی متعدد پیش رفتوں کو اجاگر کیا، جن میں آرمینیا اور آذربائیجان کی سرحد پر استحکام برقرار رکھنا، تعلقات کو معمول پر لانے، سرحد کی حد بندی اور باہمی اعتماد سازی کے لیے عملی اقدامات شامل ہیں۔
اعلامیے کے مطابق ٹرمپ روٹ فار انٹرنیشنل پیس اینڈ پراسپیریٹی (TRIPP) کے حوالے سے بھی نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ یہ کثیرالجہتی ٹرانزٹ منصوبہ خطے میں رابطہ کاری کو مضبوط بنانے اور تجارتی روابط کو فروغ دینے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ امریکا اور آرمینیا نے TRIPP ڈویلپمنٹ کمپنی کے قیام پر اتفاق کیا ہے جبکہ آرمینیا میں انجینئرنگ سروے کا کام بھی جاری ہے۔ دوسری جانب آذربائیجان اپنی حدود میں شاہراہ اور ریلوے رابطے کی تعمیر تقریباً مکمل کر چکا ہے، جو آرمینیا میں TRIPP سے منسلک ہوگا۔
تینوں ممالک TRIPP راہداری کے ذریعے بجلی کی ترسیل کی لائن کی ترقی کے لیے بھی تعاون کر رہے ہیں۔
امریکا نے ٹرانس کیسپین انٹرپرائز فنڈ کے لیے مزید 201 ملین ڈالر مختص کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے، جس کا مقصد جنوبی قفقاز اور وسطی ایشیا سے گزرنے والے ٹرانس کیسپین تجارتی راستے، جسے مڈل کوریڈور بھی کہا جاتا ہے، میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
واشنگٹن نے توانائی کے تحفظ، سرحدی بنیادی ڈھانچے اور سلامتی، مصنوعی ذہانت و سیمی کنڈکٹرز میں جدت اور اہم معدنیات سمیت مختلف شعبوں میں اسٹریٹجک شراکت داری کے چارٹرز اور مفاہمت کی یادداشتوں کے ذریعے آرمینیا اور آذربائیجان کے ساتھ اپنے دوطرفہ روابط کو بھی وسعت دی ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں آذربائیجان کی جانب سے آرمینیا سے متعلق ٹرانزٹ پابندیاں یکطرفہ طور پر ختم کرنے کے اقدام کو بھی اجاگر کیا گیا۔ اعلامیے کے مطابق اس اقدام کے بعد تقریباً 60 ہزار ٹن سامان آذربائیجان کے راستے آرمینیا سے اور آرمینیا کی جانب منتقل کیا جا چکا ہے، جبکہ آذربائیجان نے آرمینیا کو 20 ہزار ٹن پیٹرولیم مصنوعات بھی فراہم کی ہیں۔ دونوں ممالک دوطرفہ تجارت میں مزید اضافے کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبے میں بھی آرمینیا اور آذربائیجان کے آپریٹرز نے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس کا مقصد علاقائی انٹرنیٹ رابطوں کے راستوں میں تنوع پیدا کرنا، جنوبی قفقاز میں مواصلاتی نیٹ ورکس کی قابلِ اعتماد اور مضبوط کارکردگی بہتر بنانا اور یوریشیائی ٹیلی کمیونیکیشن کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں معاونت کرنا ہے۔
اعلامیے میں آرمینیا اور آذربائیجان کی مشترکہ درخواست پر او ایس سی ای منسک گروپ اور اس سے متعلقہ ڈھانچوں کی تحلیل کا بھی ذکر کیا گیا۔ تینوں ممالک نے اسے اس امر کے اعتراف کے طور پر بیان کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان غیر حل شدہ تنازع کا دور اب اختتام پذیر ہو چکا ہے۔
آرمینیا اور آذربائیجان نے امریکا کی دعوت پر بورڈ آف پیس میں بھی شمولیت اختیار کی ہے، جسے واشنگٹن کے ساتھ مل کر زیادہ پرامن اور خوشحال عالمی ماحول کے فروغ کے لیے دونوں ممالک کے اعلان کردہ عزم کی عکاسی قرار دیا گیا ہے۔
امریکا، آرمینیا اور آذربائیجان نے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحدوں کے اندر دونوں ممالک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور دائرۂ اختیار کے احترام کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔
تینوں حکومتوں نے 8 اگست کے مشترکہ اعلامیے پر مکمل عمل درآمد اور خطے کی اقتصادی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔ واشنگٹن نے آرمینیا اور آذربائیجان کے ساتھ طے پانے والے دوطرفہ اسٹریٹجک شراکت داری کے چارٹرز اور مفاہمت کی یادداشتوں پر عمل درآمد کے عزم کی بھی تجدید کی۔
مشترکہ اعلامیے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پائیدار امن کے قیام کے لیے مسلسل اور مستقل کوششوں کی ضرورت ہے۔ تینوں ممالک نے گزشتہ ایک سال کی کامیابیوں کو آگے بڑھاتے ہوئے جنوبی قفقاز کے لیے ایک مستحکم، باہم مربوط اور خوشحال مستقبل کے حصول کے عزم کا اظہار کیا۔