پاکستان

پاکستان اور ویتنام کے درمیان ادبی و ثقافتی روابط کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت، ہوچی منہ کی شعری تصنیف ’’جیل ڈائری‘‘ کے اردو ترجمے کی تقریب رونمائی

Read Time:3 Minute, 13 Second

اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز (PAL) کے زیر اہتمام، نیشنل ہیریٹیج اینڈ کلچر ڈویژن، حکومت پاکستان کے تعاون سے معروف ویتنامی انقلابی رہنما، شاعر اور جدید ویتنام کے بانی ہوچی منہ کی معروف شعری تصنیف ’’جیل ڈائری‘‘ کے اردو ترجمے کی تقریب رونمائی اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔

تقریب پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز کے شیخ ایاز کانفرنس ہال میں منعقد ہوئی، جس میں آسیان ممالک کے سفارتی نمائندوں کے علاوہ ممتاز ادیبوں، دانشوروں اور ادبی شخصیات نے شرکت کی۔

تقریب میں تھائی لینڈ کے سفیر رون ودھی ویرا بُتر، ملائیشیا کے ہائی کمشنر داتؤ محمد اظہر مزلان، برونائی دارالسلام کے ہائی کمشنر کرنل (ر) پِنگیران حاجی کمال باشاہ پِنگیران حاجی احمد، کیوبا کے سفیر دامیان کورڈیرو ٹوریس، انڈونیشیا کے ناظم الامور رحمت ہندیارتا اور میانمار کے ناظم الامور مونگ مونگ تھون سمیت دیگر سفارتی نمائندوں نے شرکت کی۔ تقریب کی نظامت ڈاکٹر حمزہ حسن شیخ نے کی۔

اپنے استقبالیہ خطاب میں پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز کی چیئرپرسن پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف نے کہا کہ ’’جیل ڈائری‘‘ محض ایک انقلابی رہنما کی قید کی روداد نہیں بلکہ انسانی آزادی، امید، حوصلے اور عزم کا مؤثر شعری اظہار بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس تصنیف کا اردو ترجمہ پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز اور ویتنام کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) کے تحت کیا گیا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان ادبی و ثقافتی تعاون کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔

ڈاکٹر نجیبہ عارف نے پاکستان اور آسیان ممالک کے درمیان ادبی و ثقافتی روابط کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔

اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے معروف ادیب، شاعر اور دانشور حلیم قریشی کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کرائی، جو ایک روز قبل پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز میں منعقدہ تقریب کے دوران انتقال کر گئے تھے۔ انہوں نے مرحوم کی ادبی خدمات کو خراجِ تحسین بھی پیش کیا۔

پروفیسر منیر فیاض اور سابق سفیر صلاح الدین چوہدری نے ’’جیل ڈائری‘‘ کے مختلف پہلوؤں، ہوچی منہ کی شخصیت، شاعری اور جدوجہد پر اظہارِ خیال کیا اور تصنیف سے منتخب اشعار بھی پیش کیے۔

تقریب کی صدارت کرتے ہوئے امداد آکاش نے ہوچی منہ کو محکوم اقوام کے لیے حوصلے، مزاحمت اور آزادی کی علامت قرار دیا اور ’’جیل ڈائری‘‘ سے منتخب اشعار پیش کیے۔

ویتنام کے سفارتی نمائندے فان آن توآن نے تقریب کے انعقاد پر ڈاکٹر نجیبہ عارف اور پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہوچی منہ کی شاعری ویتنامی قومی فکر، آزادی اور خودمختاری کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔

انہوں نے ’’جیل ڈائری‘‘ کے اردو اور انگریزی تراجم کو پاکستان اور ویتنام کے درمیان ادبی روابط کے فروغ کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا۔

بیسویں صدی کی اہم ادبی تصانیف میں شمار ہونے والی ’’جیل ڈائری‘‘ میں قید، تنہائی اور انسانی مصائب کو شعری انداز میں بیان کرتے ہوئے آزادی، امید، حوصلے اور غیر متزلزل عزم جیسے موضوعات کو اجاگر کیا گیا ہے۔

تصنیف کا اردو ترجمہ محترمہ کوثر خانم نے کیا جبکہ محترمہ نجما ثاقب نے اس پر نظرثانی کی۔

تقریب کے اختتام پر فان آن توآن نے پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز کی چیئرپرسن، مقررین اور منتظمین کو یادگاری تحائف پیش کیے۔ ڈاکٹر نجیبہ عارف نے بھی معزز مہمانوں کو پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز کی مطبوعات پر مشتمل تحائف پیش کیے۔

تقریب کے بعد سفارتی نمائندوں اور دیگر معزز مہمانوں نے پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز میں ویتنام کے سفارتخانے کے زیر اہتمام کتابوں کی نمائش اور ثقافتی اسٹال کا دورہ کیا۔ اس موقع پر مہمانوں کو ویتنام کے بھرپور ادبی و ثقافتی ورثے کی عکاسی کرنے والی کتب اور مختلف ثقافتی اشیا سے آگاہ کیا گیا۔

تقریب نے پاکستان، ویتنام اور آسیان ممالک کے درمیان ادبی و ثقافتی تعاون کے فروغ، باہمی افہام و تفہیم میں اضافے اور عوامی و ثقافتی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کو اجاگر کیا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
مراکش Previous post مراکش افریقہ کے 20 کروڑ ڈالر کے توانائی منتقلی فنڈ کی ترجیحی منڈیوں میں شامل
صحت Next post صدر امام علی رحمان کی صحت کے شعبے سے وابستہ افراد کو یومِ صحت پر مبارکباد