
صدر زرداری کا مون سون شجرکاری مہم 2026 میں بھرپور عوامی شرکت پر زور
اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول اور پیرس معاہدے، اقوام متحدہ کے جنگلات سے متعلق اسٹریٹجک پلان 2017-2030، اقوام متحدہ کے کنونشن برائے انسدادِ صحرائی و بنجر پن اور حیاتیاتی تنوع سے متعلق کنونشن کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
مون سون شجرکاری مہم 2026 کے آغاز کے موقع پر اپنے پیغام میں صدر مملکت نے کہا کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کی حکومتیں اور دیگر متعلقہ ادارے جنگلات کے تحفظ، ماحولیاتی نظام کی بحالی اور پائیدار زمینی انتظام کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔
صدر مملکت نے کہا کہ مون سون شجرکاری مہم 2026 محض پودے لگانے کی مہم نہیں بلکہ ماحول کے تحفظ کے لیے مستقل ذمہ داری اور اجتماعی اقدام کا تقاضا ہے۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ موزوں مقامی درختوں کی اقسام لگائیں اور ان کے تحفظ اور بقا کو یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ کامیابی کا حقیقی پیمانہ لگائے گئے پودوں کی تعداد نہیں بلکہ وہ صحت مند درخت اور جنگلات ہیں جن کی ہم آنے والے برسوں میں نگہداشت اور پرورش کرتے ہیں۔ مون سون شجرکاری مہم 2026 کے تحت ملک بھر میں 2 کروڑ پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
صدر مملکت نے عوام بالخصوص نوجوانوں، تعلیمی اداروں، سرکاری و نجی تنظیموں اور مقامی برادریوں پر زور دیا کہ وہ مہم میں بھرپور حصہ لیں اور بالخصوص لگائے جانے والے پودوں کے تحفظ اور نگہداشت کو یقینی بنائیں۔
انہوں نے مہم کے آغاز پر پاکستانی عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ قومی اقدام ماحول کے تحفظ، تباہ شدہ ماحولیاتی علاقوں کی بحالی اور زیادہ سرسبز اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے میں مضبوط پاکستان کی تعمیر کے لیے ہماری اجتماعی ذمہ داری کی عکاسی کرتا ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ جنگلات پاکستان کے قیمتی ترین قدرتی وسائل میں شامل ہیں۔ یہ حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، آبی ذخائر اور پانی کے نظام کی حفاظت، صحرائی و بنجر پن اور زمین کی تباہی کی روک تھام، فضائی معیار میں بہتری، قدرتی آفات کے خطرات میں کمی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات میں تخفیف و موافقت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی چیلنجز میں اضافے کے پیش نظر جنگلات کے تحفظ اور ان کے رقبے میں اضافے کو قومی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ ایک اہم تزویراتی ترجیح بنانا ناگزیر ہو گیا ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ اپ اسکیلنگ گرین پاکستان پروگرام، مینگروو ماحولیاتی نظام کی بحالی، پائیدار جنگلاتی انتظام اور مقامی آبادی کی شمولیت پر مبنی تحفظ کے پروگراموں سمیت قومی اقدامات سے درختوں کے رقبے میں اضافے، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، روزگار کے مواقع میں بہتری اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے میں استعداد بڑھانے میں مدد مل رہی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ موجودہ جنگلات کے تحفظ اور نئے لگائے گئے درختوں کی بقا اور نشوونما کو یقینی بنانے کے لیے یہ اقدامات جاری رہنے چاہئیں۔
صدر مملکت نے کہا کہ ان اقدامات کے مثبت اثرات عوام کی روزمرہ زندگی میں بھی نمایاں ہوتے ہیں۔ درخت بڑھتی ہوئی شہری گرمی میں سایہ فراہم کرتے، مٹی اور آبی وسائل کے تحفظ میں مدد دیتے، ہوا کے معیار کو بہتر بناتے اور دیہی آبادیوں کو پھل، چارہ اور دیگر ضروری وسائل فراہم کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گرمی، پانی کی قلت اور شدید موسمی حالات سے متاثرہ خاندانوں، کسانوں اور مقامی برادریوں کے لیے صحت مند جنگلات اور سرسبز مقامات زیادہ مضبوط موسمیاتی لچک پیدا کرنے کا عملی ذریعہ ہیں۔
صدر مملکت نے وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کاری، صوبائی محکمہ جاتِ جنگلات، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے محکمہ جاتِ جنگلات، ترقیاتی شراکت داروں، سول سوسائٹی تنظیموں اور رضاکاروں کی جانب سے پاکستان کے جنگلات اور ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں مل کر زیادہ سرسبز، صاف ستھرا اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے میں مضبوط پاکستان کے لیے کام کرنا ہوگا۔ آج لگائے گئے درختوں اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے ذریعے ہم آنے والی نسلوں کے لیے صحت مند ماحول اور بہتر مستقبل یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔