پرابوو

صدر پرابوو کا یومِ آزادی کی تقریب میں خدمات انجام دینے والی قومی پرچم بردار ٹیم کو خراجِ تحسین

Read Time:2 Minute, 5 Second

جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو نے 17 اگست کو مردیکا محل، جکارتہ میں ملک کے 81ویں یومِ آزادی کی تقریب کے دوران خدمات انجام دینے والی قومی پرچم بردار ٹیم کے ارکان کی لگن اور خدمات کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔

صدر پرابوو نے بدھ کی شام اپنے سرکاری انسٹاگرام اکاؤنٹ پر جاری پیغام میں قومی پرچم بردار ٹیم کی جانب سے یومِ آزادی کی تقریبات کے دوران انجام دی گئی ذمہ داریوں پر اظہارِ تشکر کیا۔

انہوں نے کہا کہ ’’قوم اور ریاست کے لیے آپ کی لگن اور خدمات کا شکریہ۔‘‘

صدر نے کہا کہ ٹیم نے سرخ و سفید پرچم لہرا کر ایک باوقار قومی فریضہ انجام دیا، جو انڈونیشیا کی جدوجہد، اتحاد اور خودمختاری کی علامت ہے۔

انہوں نے پرچم بردار ٹیم پر زور دیا کہ وہ اپنی پوری زندگی سرخ و سفید پرچم کی روح کو اپنے ساتھ لے کر چلیں اور انڈونیشیا کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں۔

اس سے قبل بدھ کے روز صدر پرابوو نے 81ویں یومِ آزادی کی تقریبات میں حصہ لینے والے تمام اہلکاروں کو مغربی جاوا کے شہر بوگور کے علاقے ہامبالانگ میں واقع اپنی نجی رہائش گاہ پر مدعو کیا، جہاں انہوں نے ان کی میزبانی کی اور ذاتی طور پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

اجلاس میں قومی پرچم بردار ٹیم کے تمام ارکان، تقریب کے کمانڈرز اور افسران، پائلٹس اور فضائی مظاہروں میں حصہ لینے والی ٹیمیں، بری فوج کی خصوصی فورسز کے پیراشوٹ دستے اور 17 اگست کی تقریبات میں شریک فنکاروں سمیت دیگر افراد نے شرکت کی۔

کابینہ سیکریٹری ٹیڈی اندرا وجایا نے، جو اس موقع پر موجود تھے، بدھ کی شام بتایا کہ صدر پرابوو نے تقریب میں شریک تمام افراد کے لیے فخر کا اظہار کیا اور ذاتی طور پر ان کی خدمات پر شکریہ ادا کیا۔

ٹیڈی اندرا وجایا نے کہا کہ صدر پرابوو نے تقریب کے عملے سے ملاقات کی اور 17 اگست کو انڈونیشیا کی آزادی کی 81ویں سالگرہ کی یاد میں منعقدہ تقریبات میں شریک افراد کی خدمات اور کاوشوں پر اظہارِ تشکر اور فخر کیا۔

مردیکا محل میں یومِ آزادی کی تقریبات کے دوران صبح کے وقت آزادی کے اعلان کی یاد میں مرکزی تقریب منعقد ہوئی، جبکہ دوپہر کے وقت قومی پرچم اتارنے کی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔

کابینہ سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ تصاویر کے مطابق ہامبالانگ میں ہونے والی اس تقریب میں کئی اعلیٰ فوجی حکام نے بھی شرکت کی، جن میں بری فوج کے سربراہ جنرل مارولی سیمانجونتک بھی شامل تھے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
اقوام متحدہ Previous post وزیراعظم شہباز شریف سے اقوام متحدہ کے ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر محمد یحییٰ کی الوداعی ملاقات
ویتنام Next post ویتنام اور میکسیکو کے درمیان تعلقات کے فروغ میں سیاسی جماعتوں کا اہم کردار ہے، صدر تو لام