
ترکمانستان: مٹی میں میتھین کے اخراج کو بے ضرر بنانے والی نئی حیاتیاتی مصنوعات تیار
اشک آباد، یورپ ٹوڈے: ترکمانستان کی اکیڈمی آف سائنسز کے انٹرنیشنل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک کے ماہرین نے نئی نسل کی ایک حیاتیاتی مصنوعات تیار کی ہے جو مٹی کی سطح میں موجود میتھین کے اخراج کو مؤثر طریقے سے بے ضرر بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
آن لائن اخبار ’’گولڈن ایج‘‘ کے مطابق اس تحقیق کی قیادت اکیڈمی کے متعلقہ رکن اور ڈاکٹر آف کیمیکل سائنسز دردمیرات گاداموف اور بایوٹیکنالوجی لیبارٹری کی سربراہ التین رحمانووا نے کی۔
نئی حیاتیاتی مصنوعات قدرتی حیاتیاتی عمل پر مبنی ہے۔ سائنسدانوں نے خطے کے موسمی حالات سے مطابقت رکھنے والے مقامی میتھین آکسیڈائزنگ بیکٹیریا کے سٹرینز استعمال کیے ہیں۔ ان بیکٹیریا میں موجود انزائم ’’میتھین مونو آکسی جنیز‘‘ میتھین کو کاربن ڈائی آکسائیڈ اور پانی جیسی نسبتاً محفوظ مرکبات میں تبدیل کرتا ہے۔
مصنوعات کے عملی استعمال کو آسان بنانے کے لیے زندہ مائکروبیل کلچرز کو مقامی طور پر دستیاب مواد کے ساتھ ملایا گیا ہے، جس سے بیکٹیریا کے لیے ایک حفاظتی مائیکرو ماحول پیدا ہوتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق نئی مصنوعات کے متعدد فوائد ہیں۔ یہ صنعتی سرگرمیوں سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں میتھین کو مؤثر طریقے سے بے ضرر بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ مقامی خام مال کے استعمال کے باعث اس کی لاگت درآمد شدہ متبادل مصنوعات کے مقابلے میں کم ہے، جبکہ یہ انسانوں، جانوروں اور ماحول کے لیے مکمل طور پر محفوظ قرار دی گئی ہے۔
ترکمان سائنسدانوں کی یہ پیش رفت ملک کی ماحولیاتی حکمت عملی کے عملی نفاذ کی جانب ایک اہم قدم قرار دی جا رہی ہے۔ صدر سردار بردی محمدوف کی قیادت میں ترکمانستان پائیدار ترقی کے اصولوں پر عمل درآمد کے عزم کا اظہار کر رہا ہے۔ ملک عالمی ’’میتھین عہد‘‘ (Global Methane Pledge) میں باضابطہ طور پر شامل ہو چکا ہے اور توانائی کے شعبے میں جدید ماحولیاتی نگرانی کے معیارات متعارف کرا رہا ہے۔