
انڈونیشیا کا بجلی سے محروم دیہات کو روشن کرنے کے لیے 100 گیگاواٹ سولر پروگرام کا اعلان
بالی، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا نے قومی بجلی کے گرڈ سے محروم دیہی اور دور دراز علاقوں کو بجلی کی فراہمی کے لیے 100 گیگاواٹ پیک (GWp) شمسی توانائی پروگرام شروع کردیا ہے۔
انڈونیشیا کے وزیر توانائی و معدنی وسائل بہلیل لہادالیا نے کہا کہ یہ اقدام صدر پرابوو سوبیانتو کی اس ہدایت پر عمل درآمد کے لیے شروع کیا گیا ہے جس کا مقصد ملک کے تمام دیہات کو بجلی کی سہولت فراہم کرنا ہے۔ وزارت کو ہر گاؤں کے لیے تقریباً ایک میگاواٹ بجلی فراہم کرنے کا ہدف دیا گیا ہے۔
بہلیل لہادالیا نے بالی کے علاقے گیلِمانوک میں پروگرام کی افتتاحی اور سنگ بنیاد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 100 گیگاواٹ کا یہ منصوبہ ان آبادیوں تک بجلی پہنچانے میں مدد دے گا جو اب بھی بجلی کی سہولت سے محروم ہیں۔
انہوں نے سماٹرا کے ایک گاؤں کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ سرکاری ملکیتی ادارے پی ٹی پرٹامینا کی معاونت سے ایک میگاواٹ بجلی کی فراہمی نے مقامی معاشی سرگرمیوں میں نمایاں بہتری پیدا کی۔ بجلی کی دستیابی سے مقامی باشندوں نے اپنی پکڑی ہوئی مچھلی کو محفوظ رکھنے کے لیے کولڈ اسٹوریج کی سہولت قائم کی، جس سے ماہی گیری کے شعبے کی کارکردگی اور مقامی لوگوں کے ذرائع معاش میں بہتری آئی۔
صدر پرابوو سوبیانتو نے بالی کے جمبراَنا میں گیلِمانوک آپریشنز مونومنٹ پر منعقدہ تقریب کے ذریعے اس تزویراتی پروگرام کا باضابطہ افتتاح کیا۔ اسی موقع پر وسطی جاوا کے وونوگیری میں گاجہ منکور فلوٹنگ سولر پاور پلانٹ، ریاو جزائر کے باتم میں سیمبور ولیج سولر پاور پلانٹ اور بانگکا بلیتونگ میں رینگٹ آئی لینڈ سولر پاور پلانٹ میں بھی تقریبات منعقد ہوئیں۔
بالی کے سولر پاور منصوبے کی پیداواری صلاحیت 198 میگاواٹ پیک (MWp) ہے، جبکہ اسے 666 میگاواٹ گھنٹے (MWh) ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم سے منسلک کیا گیا ہے۔ تقریباً 211 ہیکٹر رقبے پر محیط یہ منصوبہ 2028 میں کام شروع کرنے کے لیے مقرر ہے۔
پی ٹی پی ایل این کے صدر ڈائریکٹر دارماوان پرَسودجو کے مطابق بالی کا یہ منصوبہ شمسی توانائی کی پیداوار اور بیٹری اسٹوریج کو مربوط کرکے صوبے کے بجلی کے نظام میں ایندھن کے تیل کے استعمال کو مکمل طور پر ختم کرنے کی کوششوں میں بھی معاون ثابت ہوگا۔
انڈونیشیا کی حکومت نے 100 گیگاواٹ سولر پروگرام کو ملک کے پسماندہ اور بجلی سے محروم علاقوں میں بجلی کی رسائی بڑھانے کے ساتھ ساتھ قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کے لیے ایک اہم اقدام قرار دیا ہے۔