
ویتنام: مصنوعی ذہانت اساتذہ کا کردار تبدیل کرے گی، ان کی جگہ نہیں لے گی
ہنوئی، یورپ ٹوڈے: ویتنام کے جنرل سیکریٹری اور صدر ٹو لام نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) اساتذہ کی جگہ لینے کے بجائے ان کے کردار کو تبدیل کرے گی، جبکہ معلمین کو طلبہ میں استدلال، تخلیقی صلاحیتوں اور علم کے ذمہ دارانہ استعمال کی صلاحیتیں پیدا کرنے پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔
تعلیم و تربیت میں اصلاحات سے متعلق قرارداد نمبر 71 پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ٹو لام نے کہا کہ تعلیمی اداروں کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کو تدریس میں معاون آلات کے طور پر اپنانا چاہیے، تاہم انہیں اساتذہ کے بنیادی تعلیمی کردار کا متبادل نہیں بننے دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت جب معلومات کی فراہمی سے متعلق معمول کے متعدد کام انجام دینے لگے گی تو اساتذہ کو طلبہ کی سوچ کی رہنمائی، سیکھنے کی ترغیب، انفرادی صلاحیتوں کی شناخت اور علم کے ذمہ دارانہ استعمال میں نوجوانوں کی رہنمائی پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔
ویتنامی رہنما نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اے آئی کو طلبہ کی جگہ سوچنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کلاس رومز میں مصنوعی ذہانت کا استعمال گہری سوچ، تخلیقی صلاحیت، خود سیکھنے اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت کو فروغ دینے کے لیے ہونا چاہیے۔
ٹو لام نے تعلیمی نظام میں بنیادی تبدیلی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ رٹے اور امتحانات پر مبنی تدریس سے ہٹ کر خود رہنمائی میں سیکھنے، عملی تجربے اور آزادانہ سوچ کو فروغ دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اساتذہ کے انتظامی بوجھ، غیر ضروری اجلاسوں اور کاغذی کارروائی میں کمی لانے کی بھی ہدایت کی تاکہ وہ طلبہ کو پڑھانے اور ان کی رہنمائی کے لیے زیادہ وقت صرف کر سکیں۔
انہوں نے اخلاقیات، کردار سازی، جسمانی و ذہنی صحت، ڈیجیٹل خواندگی، غیر ملکی زبانوں، سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (STEM) کی تعلیم اور سائنسی سوچ کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ تعلیمی حکام کو 2018 میں متعارف کرائے گئے قومی نصاب کا جامع جائزہ لینے اور اس میں ضروری اصلاحات کرنے کی ہدایت کی گئی۔
ٹو لام نے تعلیمی بدعنوانی، امتحانی دھوکہ دہی اور معاوضے کے عوض اضافی ٹیوشن سے متعلق غلط استعمال کے خلاف مؤثر اقدامات پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی کامیابی کو صرف نمبروں، ڈگریوں یا تعلیمی اداروں کی درجہ بندی سے نہیں بلکہ اس معیار اور صلاحیتوں سے جانچا جانا چاہیے جو تعلیمی نظام سے فارغ التحصیل افراد میں پیدا ہوتی ہیں۔
تعلیمی سہولیات میں عدم مساوات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسکولوں، کلاس رومز یا اساتذہ کی کمی کے باعث کسی بھی طالب علم کو معیاری تعلیم سے محروم نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے تعلیمی بنیادی ڈھانچے اور تدریسی عملے کی کمی کو دور کرنے کے لیے واضح اہداف، مقررہ مدت اور جواب دہی کا مؤثر نظام قائم کرنے پر زور دیا۔
ویتنامی رہنما نے طلبہ کے ریکارڈ اور تعلیمی اسناد پر مشتمل ایک متحدہ قومی ڈیٹا بیس تیار کرنے کی ضرورت بھی اجاگر کی۔ ان کے مطابق تعلیمی اعداد و شمار کو تزویراتی بنیادی ڈھانچے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے مستقبل میں زندگی بھر کے ڈیجیٹل تعلیمی پروفائلز تشکیل دیے جا سکتے ہیں، جو تعلیمی انتظام، افرادی قوت کی منصوبہ بندی اور اسناد کی تصدیق میں معاون ثابت ہوں گے۔
ٹو لام نے کہا کہ ویتنام کے تعلیمی نظام کو ملک کی اقتصادی اور تکنیکی ضروریات سے ہم آہنگ رہنا ہوگا، بالخصوص تزویراتی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں اعلیٰ مہارت رکھنے والے ماہرین کی تیاری پر توجہ دینا ہوگی۔
انہوں نے حکومتی اداروں، مقامی انتظامیہ اور تعلیمی منتظمین پر زور دیا کہ وہ اصلاحات پر عملدرآمد کی مشترکہ ذمہ داری ادا کریں اور مزید پروگراموں اور پالیسی دستاویزات کے بجائے عملی اور قابلِ پیمائش نتائج پر توجہ مرکوز کریں۔
انہوں نے کہا کہ 5 ستمبر سے شروع ہونے والا نیا تعلیمی سال قرارداد نمبر 71 پر عملدرآمد کے حوالے سے ایک اہم موڑ ثابت ہونا چاہیے اور شعبہ تعلیم کو اصلاحات کی تیاری کے مرحلے سے آگے بڑھ کر ان کے ٹھوس اور قابلِ پیمائش نتائج یقینی بنانے کی طرف پیش رفت کرنی چاہیے۔