
ٹیکس نظام میں اصلاحات مقررہ مدت میں مکمل کی جائیں، وزیراعظم شہباز شریف
اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ ٹیکس نظام میں اصلاحاتی اقدامات پر مقررہ مدت کے اندر عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور ٹیکس چوری، اسمگلنگ اور غیر قانونی کاروباری سرگرمیوں کے خلاف مؤثر کارروائی مزید تیز کی جائے۔
وزیراعظم نے یہ ہدایات جمعہ کو یہاں ایف بی آر اصلاحات کے حوالے سے ہفتہ وار جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں۔ انہوں نے اصلاحات کے عمل میں شفافیت، مؤثریت اور پائیداری یقینی بنانے کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کی ہدایت بھی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ ڈیجیٹلائزیشن، پیداوار کی نگرانی اور خودکار نظام ایف بی آر اصلاحات کے بنیادی ستون ہیں۔ انہوں نے پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ (PRAL) کی تنظیم نو کے بارے میں بریفنگ حاصل کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے ٹیکس اصلاحات متعارف کرانے کی کوششوں کا مقصد ملک کی ترقی ہے۔
انہوں نے ایف بی آر میں معروف اور مستند گڈز ایویلیوٹرز کی تعیناتی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ٹیکس نظام کو جدید اور مضبوط بنانے، محصولات میں اضافہ کرنے اور اسمگلنگ کے مکمل خاتمے کے لیے اصلاحات پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
اجلاس کے شرکاء کو ایف بی آر میں جاری اصلاحات، بالخصوص PRAL کی تنظیم نو، ٹیکس نظام کی ڈیجیٹلائزیشن اور اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ٹیکس نظام کو جدید، مربوط اور ڈیٹا پر مبنی بنانے کے لیے IRIS 3.0، نئے ٹیکس آپریٹنگ ماڈل اور مرکزی ڈیٹا ہب پر مرحلہ وار کام جاری ہے۔ IRIS 3.0 کی تیاری کے لیے بین الاقوامی کنسلٹنٹس کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ IRIS 3.0 کے تحت ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنانے، آٹو ٹیکسیشن کے پائلٹ منصوبے اور مستقبل میں ٹیکس وصولی بہتر بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ کے استعمال پر بھی تیزی سے کام جاری ہے۔
شرکاء کو بتایا گیا کہ PRAL میں ٹیکنالوجی، ڈیٹا سکیورٹی، آپریشنز اور ٹیکس کے شعبوں سمیت مختلف اہم شعبوں میں اعلیٰ سطحی نئی تعیناتیاں کی گئی ہیں۔
کسٹمز کے شعبے میں فیس لیس اسیسمنٹ کے مثبت اثرات کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ جنوری سے جون 2026 کے دوران ایک گڈز ڈیکلریشن (GD) سے حاصل ہونے والی اوسط آمدنی میں 12 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ اس نظام سے درآمدات میں بے ضابطگیوں کی نشاندہی اور نگرانی میں بھی بہتری آئی ہے۔
اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ 280 گڈز ایویلیوٹرز کی بھرتی کا عمل آخری مراحل میں ہے، جبکہ اسلام آباد میں ایک مرکزی اسیسمنٹ یونٹ قائم کیا جا رہا ہے، جسے عبوری انتظام کے تحت 31 دسمبر 2026 تک فعال کر دیا جائے گا۔ یہ یونٹ جون 2027 تک نئے کمپلیکس میں مکمل طور پر فعال ہو جائے گا۔
ڈیجیٹل انوائسنگ کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ جولائی 2025 میں 236 ارب روپے مالیت کے لین دین ڈیجیٹل انوائسنگ کے ذریعے ہوئے تھے، جو جولائی 2026 میں بڑھ کر 2.5 کھرب روپے تک پہنچ گئے۔ رواں سال دسمبر تک اس حجم کو 4 کھرب روپے تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اسمگلنگ کی روک تھام کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی غیر قانونی نقل و حرکت روکنے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں، جن میں تمام قانونی پٹرول پمپس کی جی آئی ایس ٹیگنگ، جی پی ایس کے ذریعے پٹرولیم مصنوعات کی ٹریکنگ، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے ERP نظام کو ٹریکر سے منسلک کرنا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے مرکزی ٹریکنگ ایپ کی تیاری شامل ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ’’راہگزر‘‘ ایپ کے ذریعے 2,500 غیر قانونی پٹرول پمپس بند کیے جا چکے ہیں، جبکہ ان کے خلاف قانونی کارروائی بھی شروع کی گئی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی فروخت کی ڈیجیٹل نگرانی سمیت دیگر اقدامات پر بھی کام جاری ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطا اللہ تارڑ اور شزا فاطمہ خواجہ، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، رکن قومی اسمبلی عثمان اویسی، اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد، چیئرمین ایف بی آر اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔